میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہے: بلاول بھٹو

میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہے: بلاول بھٹو


ملتان (24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت صرف نواز شریف کی وجہ سے کمزور ہوئی، ملک میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو ہوا دی جا رہی ہے، نیازی صاحب کی زبان کا مقابلہ دھرنے والے ہی کرسکتے ہیں، اسلام کو خطرہ نہیں، مولویوں کا حلوہ خطرے میں ہے۔

انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہوگا، ن لیگ نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بننے نہیں دیا، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے، آپ میرا ساتھ دیں، جنوبی پنجاب کو سب سے زیادہ قیادت پیپلزپارٹی نے دی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، شہباز شریف کو بھی اپنے گناہوں کا حساب دینا ہوگا، شہباز شریف کو کرپشن اور ظلم کا حساب دینا ہوگا، شہباز شریف کو جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا حساب دینا ہوگا۔ جنوبی پنجاب کا صحت کا بجٹ لاہور کے پھولوں سے کم ہے، جنوبی پنجاب میں کوئی اچھا ہسپتال نہیں، جنوبی پنجاب کے عوام سندھ کے ہسپتالوں سے فائدہ اٹھائیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے آئندہ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور اپنا انتخابی منشور بھی بیان کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت میں آکر جی ایس ٹی کا خاتمہ کریں گے، پانی اور بار دانہ کی تقسیم درست کی جائے گی، اگر چھوٹے کسان کی مدد نہ کی گئی تو میاں صاحب اور خان صاحب انہیں برباد کر دیں گے۔

ضیا اور مشرف نے پاکستان کی راہ میں کانٹے بچھائے، پیپلز پارٹی آج تک یہ کانٹے چنتی آ رہی ہے۔ ذوالفقار بھٹو اور بی بی شہید نے بھی ملتان میں جلسے کئے تھے، سرائیکی وہ میٹھی زبان ہے جو چاروں صوبوں میں بولی جاتی ہے، ملتان صوفیوں کا شہر ہے۔

آصف علی زرداری نے ملتان جلسے سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ن لیگ کی حکومت میں خوش نہیں، فرعونیت سے آگے کوئی جگہ نہیں تھی، آپ کو اللہ نے نکالا، نواز شریف ججز نہیں اللہ کی پکڑ میں آئے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ایک پیج پر نہ ہونا نواز شریف کی غلطی ہے، نواز شریف اب پوچھتے پھرتے ہیں مجھے کیوں نکالا، ن لیگ کی حکومت ختم ہو نہیں سکتی ختم ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمیں اقتدار ملا مشرف ان کے سینوں پر بیٹھا تھا، پرویز مشرف کو لانے والے نواز شریف تھے، عوام کی طاقت سے آمر کو نکالا، پی پی نے مشرف کو مکھن سے بال کی طرح چلتا کیا۔ ہمارے دور میں پاکستان کے عوام خوش تھے، پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی کے پاس کل کا منشور نہیں۔ جب بی بی کو شہید کیا گیا تو ایسا ماحول تھا کہ پاکستان نہ رہتا، لیکن اُن تمام مشکلات کے باوجود ہماری حکومت نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جمہوریت خطرے میں ہے، کسان اور مزدور طبقہ بہت پریشان ہے، نوجوان بے روز گار ہے، ان سب مسائل سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو بلاول بھٹو جیسے لیڈر کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم کو حکومت نہیں چاہیے بلکہ عوام کی حکمرانی چاہیے۔

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی کی ملک کیلئے بے شمار قربانیاں ہیں آج کے دور میں ملک کو بھٹو صاحب اور بی بی صاحبہ کی کو بہت ضرورت ہے، بی بی کی شہادت کے بعد ان کی کمی کو بلاول بھٹو پوری کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سارے مسائل کا حل نئے صوبے میں ہے۔ ن لیگ کی حکومت کورم تو پورا کر نہیں سکتی مدت کیا پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بی بی شہید کے تمام وعدوں کو پورا کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا ملتان میں پاور شو، جلسے میں کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی رہا، جیالوں کا لہو گرمانے کے لئے پارٹی ترانوں کی دھنیں بھی بجائی گئی۔

اپنے نوجوان قائد بلاول بھٹو زردای کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ملتان کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کی۔ جلسے میں شرکت کے لئے آنیوالے وی آئی پیز کے لئے الگ انکلوژر مختص کیا گیا، وی آئی پی انکلوژر میں 205 افراد کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ہاتھوں میں پارٹی پرچم تھامے اور سر پر پارٹی کیپ پہنے جیالوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے کو چار چاند لگا دیئے۔

جلسے میں بنائے گئے سٹیج کو تاریخی تصاویر سے سجایا گیا ہے۔ تصاویر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سمیت ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی تصاویر بھی نصب ہیں۔

جلسے میں سابق صدر آصف علی زرداری ، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ، شوکت بسرہ، نیر بخاری، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور بہت سے رہنماوں نے شرکت کی۔