کسی چوراُچکے کو پارٹی کا سربراہ نہیں بنایا جاسکتا: سپریم کورٹ


اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کیس میں ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کرنا ریاست سے بے وفائی ہے، ایسا کرنے والا سنگین غداری کا مرتکب ہوگا، کسی چوراُچکے کو پارٹی کا سربراہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا سپریم کورٹ پارٹی صدارت کے معاملے میں مداخلت نہ کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کی۔ ن لیگ کے وکیل سلیمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کسی بھی شخص کا بنیادی انسانی حق ہے کہ سیاسی پارٹی بنائے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیئے ایسا شخص جو توہین عدالت کے باعث ریاست کا وفادار نہ ہو وہ پارٹی سربراہ یا اسمبلی کا رکن کیسے بن سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاست سے بے وفائی کرنیوالا سنگین غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا سپریم کورٹ پر حملہ کرنا آئین کو تہہ و بالا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سینٹ انتخابات کیلئے ٹکٹ کی تقسیم پر یہ شعر بھی پڑھا ’’سر آئینہ میرا عکس ہے، پس آئینہ کوئی اور ہے‘‘۔

چیف جسٹس نے کہا ایک نا اہل شخص کیسے سینٹ کے ٹکٹ جاری کر سکتا ہے؟ اللہ نہ کرے ملک کا لیڈر چور اچکا بن جائے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کیا اہل لوگوں کو ایک ناہل شخص کنٹرول کر سکتا ہے؟ سزا یافتہ پارٹی سربراہ کیسے بن سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کیا ڈرگ مافیا کا سربراہ پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، کیا قتل ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے؟

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا سپریم کورٹ پارٹی سربراہی کے معاملے میں مداخلت نہ کرے، ایسا فیصلہ دیا جائے جس سے سینٹ انتخابات متاثر نہ ہوں۔ کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی گئی۔