الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کےخلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کو الگ الگ کردیا

الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کےخلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کو الگ الگ کردیا


اسلام آباد(24نیوز) الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کو الگ الگ کردیا، پیپلزپارٹی نے تحریری جواب میں پی ٹی آئی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا پیپلزپارٹی کو کوئی غیرملکی فنڈنگ نہیں ہوئی الیکشن کمیشن نے نون لیگ کو جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دے دی۔
تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے دونوں پارٹیوں کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔سماعت میں نون لیگ کے وکیل جہانگیر جدون نے موقف اختیار کیا کہ ان کا جواب تیار ہے آئندہ سماعت پر جواب جمع کرادیں گے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے نون لیگ کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا تحریک انصاف کو 20 جنوری تک جواب کی کاپی فراہم کر دی جائے بعد میں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔ پیپلز پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں لطیف کھوسہ نے جواب جمع کرایا اور موقف اختیار کیا کہ ان کی پارٹی پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات غلط بے بنیاد اور بدنیتی پر مشتمل ہیں تحریک انصاف میں انٹرنیٹ سے بوگس مواد اکٹھا کرکے یہ پٹیشن دائر کی۔ الیکشن کمیشن پٹیشن کو مسترد کرے۔ پیپلز پارٹی کے خلاف کیس کی سماعت دلائل کے لئے مقرر کرتے ہوئے یکم فروری تک ملتوی کردی۔ پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کوئی غیرملکی فنڈنگ نہیں لی نوازشریف غیرملکی ایجنڈے پر ہیں اور ملک اور عدلیہ اور اداروں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا نون لیگ نے اگر غیر ملکی فنڈنگ حاصل نہیں کی تو تاریخوں کے پیچھے کیوں چھپ رہی ہے۔