کراچی: انتظار قتل کیس میں ڈرامائی موڑ

کراچی: انتظار قتل کیس میں ڈرامائی موڑ


کراچی (24 نیوز) شہر قائد کے علاقہ ڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچ جانے والی لڑکی نے ابتدائی بیان رکارڈ کرا دیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس اسلحہ برداراہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کی۔ مقامی عدالت نے گرفتار اہلکاروں کو7 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈیفنس خیابانِ اتحاد پر نوجوان انتظار کے قتل کے بعد گاڑی سے فرار ہوجانے والی انتظار کی دوست مدیحہ نے پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔

مدیحہ نے بتایا کہ سادہ کپڑوں والے افراد کو دیکھ کر انتظار نے گاڑی بھگائی تھی۔ ہم سمجھے کہ گاڑی چھیننے آئے ہیں۔ اسلحہ بردار افراد نے نہ رکنے پر فائرنگ کر دی۔

علاوہ ازیں انتظار قتل کیس میں پولیس نے گرفتار 8 ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کر دیا۔ عدالت نے ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ تمام ملزمان کا تعلق اے سی ایل سی پولیس سے ہے۔

واضح رہے کہ ایک ملزم انسپکٹر طارق محمود اب بھی قانون کی گرفت سے دور ہے۔