آدھا افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے: وزیر دفاع


اسلام آباد (24 نیوز) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ آدھا افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے، افغانستان کا 43 فیصد حصہ آج بھی افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑیں گے اور ہم کسی کی دھمکی سے ڈرنے والے نہیں۔

قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے اور اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے لیکن ہم افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے جب کہ ہم کسی کی دھمکی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت نے حالات خراب کیے، بھارت میں ہر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے جب کہ بھارت کے آرمی چیف کے بیانات سے ان کی ذہنیت واضح ہوتی ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری نے بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم کو بے نقاب کردیا۔ امریکا پاکستان سے کہتا ہے کہ بھارت خطرہ نہیں۔

بھارت کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ معمول بن چکی ہے جب کہ بھارت نے ایل او سی پر 1300 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی جو قابل مذمت ہے۔ بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے 52 پاکستانی شہید اور 75 زخمی ہوئے۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ملک میں دہشت گردی کے خلاف بڑے بڑے آپریشن شروع کیے اور قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور اس جنگ میں بے شمار جانی و مالی نقصان اٹھایا لیکن یہ ہماری جنگ ہے جسے آخر تک لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔ ہم کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھیں گے جب کہ قوم دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔