چوروں نے زمین لے کر آگے بیچ دی: چیف جسٹس

چوروں نے زمین لے کر آگے بیچ دی: چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اراضی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے کہا کہ چوروں نے زمین لے کر آگے بیچ دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اراضی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، جےآئی ٹی نے زمین منتقل کرنے کے احکامات میں نواز شریف کو ذمہ دار قرار دے دیا، انکوائری رپورٹ  میں کہا گیا کہ دربار کی زمین نواز شریف نے غیر قانونی طور پر منتقل کی،وکیل نواز شریف منور دوگل کاکہناتھاکہ نواز شریف نے جواب دیا تھا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا نہ ہو ہم اینٹی کرپشن کو پرچہ درج کرنے کے لئے کہہ دیں۔

وکیل نواز شریف سے عدالت کا کہنا تھا کہ آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کررہے ہیں، جے آئی ٹی سربراہ حسین اصغر نے عدالت کوبتایا کہ ہجرہ شاہ مقیم اور دربار حافظ جمال کی زمین بھی دی گئی، جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ ان درباروں کی زمین 1986 میں الاٹ کی گئی، تفتیش اور انکوائری ہوئی تو کوئی بچ نہیں پائے گا، کیوں یہ زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی، چوروں نے زمین لے کر آگے بیچ دی۔

جے آئی ٹی سربراہ حسین اصغر کا کہنا تھا کہ یہ ساری زمینیں ایک ہی دور میں نواز شریف نے دیں،  پہلی تفتیشی رپورٹ 2015 میں دی گئی جس میں وزیر اعلیٰ کو ذمہ دار قرار دیا گیا،بعد ازاں 2016 میں دوسری رپورٹ بنا کر وزیر اعلیٰ کانام نکال دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب وہ دور نہیں رہا تیسری رپورٹ نہیں بنے گی،سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت اور نواز شریف کو حکم دیا کہ دو ہفتوں میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایں، بعد ازاں  عدالت  نے مزید سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔