سربراہ کالعدم تحریک طالبان ملا فضل اللہ ہلاک، افغان حکام کی تصدیق


کابل(24نیوز) افغان وزارت دفاع نے کالعدم تحریک طالبان کے سر براہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ ملافضل اللہ کو پاک افغان سرحدی علاقہ میں مارا گیا ۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش نے بتایا کہ ملا فضل اللہ کنڑ میں 13 جون کو ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ ملافضل اے پی ایس حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔ افغانستان میں امریکی ڈرون حملےمیں ماراجانے والا کالعدم تحریک طالبان کا سربراہ مولانا فضل اللہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان کمانڈر خان سید سجنا 9 ساتھیوں سمیت مارا گیا

فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوا۔ وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی تھا۔تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد مولوی فضل اللہ نے جہانزیب کالج سوات سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو مولانا صوفی محمد ہزاروں افراد کو لیکر افغانستان پہنچے جن میں مولانا فضل اللہ بھی شامل تھا۔

پڑھنا نہ بھولیں:  طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان، افغانستان متفق

فضل اللہ نے 2005 اور 2006 میں سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل شروع کیا اس ایف ایم چینل پر مغرب خصوصاً امریکہ، حفاظتی ٹیکوں، لڑکیوں کی پڑھائی کے خلاف خطبے دیے گئے۔2006 میں ملا فضل اللہ نے علاقے میں 'شریعت' کے نفاذ کے لیے عملی اقدمات بھی شروع کر دیے جس میں مقامی تنازعات کے فیصلے کرنا اور گلی کوچوں میں جنگجوؤں کا گشت شامل تھا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔