بھارت کو پاکستان کے ساتھ دشمنی مہنگی پڑ گئی


اسلام آباد(24نیوز)بھارتی سرکار پاکستان دشمنی میں تمام حدیں عبور کرنے لگی،بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات رونما ہوئے لیکن پاکستان کی شکایت کے باوجود بھارت نے کوئی اقدامات نہ اٹھائے، ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچوں کی گاڑی کو40 منٹ تک روکا گیا، سفارتی عملےکو ہراساں کیے جانے کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھارتی سفارت کاروں ک ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اگر کوئی ایسا واقعہ ہواہے تو بھارتی ہائی کمیشن نے ہمیں آگاہ نہیں کیا، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری رہنماوں کو نظر بند رکھا گیا ہے،ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہم نےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایاہے، بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال رہا ہے، بھارت جان بوجھ کراقوام متحدہ کی ٹیم کومقبوضہ کشمیر نہیں جانے نہیں دے رہا، پاکستان نےاقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم سے مقبوضہ کشمیرکےدورےکا مطالبہ کیاہے۔
پاکستان نے سفارتی عملے ان کے بحوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر خاموشی نہیں اختیار کی ہے بلکہ اس کا بھرپور جواب دینے کا پروگرام مرتب کرلیا ہے، پاکستان نے نئی دلی سے پاکستانی ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے بلا لیا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا جب کہ بھارتی وزارت خارجہ کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، پاکستانی ہائی کمیشن نے ملزمان کی تصاویر اور ویڈیو بھی فراہم کی لیکن بھارت نے سفارتکاروں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے، پاکستان نے نئی دلی میں اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلالیا ہے، ہائی کمشنر سے سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر مشاورت ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اسلام آباد اور نئی دلی دونوں میں اٹھایا گیا ہے، اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھانا پڑے تو اٹھائے جائیں گے، اپنے سفراءکا تحفظ ہمارے لئے اہم ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بھارت ہمیں اپنی اندرونی سیاست میں ملوث و استعمال نا کرے۔