نواز شریف استثنیٰ ملنے کے باوجود احتساب عدالت سے باہر کیوں نہ گئے

نواز شریف استثنیٰ ملنے کے باوجود احتساب عدالت سے باہر کیوں نہ گئے


اسلام آباد (24نیوز) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے استثنیٰ ملنے کے باوجود احتساب عدالت سے باہر جانے سے انکار کر دیا، واجد ضیا کو دوسرے کمرے میں انتظار کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے استثنیٰ ملنے کے باوجود احتساب عدالت سے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ واجد ضیا اور نواز شریف کا عدالت میں آمنا سامنا نہیں ہو سکا۔نواز شریف کی موجودگی کے باعث واجد ضیاہ کو دوسرے کمرے میں بیٹھا دیا گیا اور واجد ضیا کو کمرے میں انتظار کرنا پڑا۔لیکن عدالت کا کم وقت ہونے کے باعث نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی موجودگی میں واجد ضیاہ کو بھی کمرہ عدالت میں لایا گیا۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف واجد ضیا کے سامنے اپنی موجودگی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔چونکہ اس سے پہلے جے ائی ٹی میں بھی نواز شریف مسلسل طلب کیے جاتے رہے ہیں اور صربراہ واجد ضیا کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں۔اور آج یہ پہلا موقع آیا  جب واجد ضیا اور میاں نواز شریف ایک ہی کمرہ عدالت میں ایک ساتھ پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا نواز شریف کو باؤنسر ، ایک اور وکٹ اڑالی 

 دوسری جانب پہلے یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ شاید نواز شریف کی غیر موجودگی میں ہی واجد ضیا کا بیان رکارڈ کر لیا جائے گا لیکن نواز شریف کی موجودگی میں واجد ضیا کا بیان قلمبند کیا گیا۔اس سے پہلے بھی واجد ضیا اور نواز شریف کا آمنا سامنا ہوا لیکن وہ ایک یا دو منٹ کا تھا۔ جب نواز شریف عدالت سے باہر آرہے تھے اور واجد ضیا عدالت جا رہے تھے۔پر آج کوئی اتفاق نہیں بلکے نواز شریف کے عدالت میں رہنے کے اسرار نے آمنا سامنا کروایا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی جمہوریت جوتوں کی زد میں آگئی، عمران خان پر دوسرا وار 

 علاوہ ازیں آصف کرمانی نے یاد بھی کروایا کہ میاں صاحب آپ کو عدالت نے جانے کی اجازت دے دی ہے لیکن میاں صاحب نے جواب میں کہا کہ آپ کو اتنی کیا جلدی ہے تھوڑی دیر تو ادھر بیٹھنے دو۔