پشتو فلم انڈسٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

پشتو فلم انڈسٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی


پشاور (24نیوز) پشتو فلم انڈسٹر آج کل تباہی کے دہانے پر،ماضی میں پشتو فلم انڈسٹری نے کئی نامور ہیروز اور لازوال فلمیں فلم بینوں کی تفریح کیلئے پیش کیں، مصرین کا کہنا ہے کہ فلموں سے کہانی غائب ہوچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قیام پاکستان سے 70 کی دہائی تک اپنا سنہرا دور دیکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری دن بدن زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت کی تاریخی پس منظرپر بننے والی فلمیں آج بھی اس عظیم دور کی یاد تازہ کرتی ہے لیکن فلم بین آج کل کی فلموں سے نالاں نظر آتے ہیں۔

یہ بھی  پڑھیں:شاہ رُخ خان کی بیٹی سہانا خان کو پہلا پروجیکٹ مل گیا، ماں کی تصدیق 

 واضح رہے کہ 20 سے زائد سنیما گھروں کا شہر صوبائی دارلحکومت میں اب گننے چنے سنیما گھر ہی موجود ہیں جو عوام کی تفریح کا واحد ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی فلم بین نہ ہونے کے برابر ہے اور فیملیز کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مبصرین اس زبوں حالی کی وجہ فلموں سے کہانی کا غائب ہونا، عریانی، بے پناہ تشدد اور پشتون ثقافت اور روایات کو توڑ مروڑ کر غلط رنگ میں پیش کرنا قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے سٹیج اداکارہ ندا چودھری کی فنکاری پکڑ لی 

 علاوہ ازیں ملک میں نامسائد حالات، معیاری فلموں کا نا بننا اور حکومت کی عدم دلچسپی سے پشتو فلم انڈسٹری زوال کی جانب گامزن ہے۔