سانحہ 12 مئی کیس، میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد


کراچی (24نیوز) کراچی کی خصوصی عدالت میں سانحہ 12 مئی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد کردی۔ ملزموں نے صحت جرم سے انکارکردیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے گواہوں کو طلب کرلیا۔

کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ 12 مئی کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔عدالت میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ ملزمان پر 12 مئی 2007 کو شارع فیصل پر جلاو گھیراو اور سابق چیف جسٹس کا راستہ روکنے سے متعلق دائر ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کردی گئی ۔تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکارکردیا۔عدالت نے آئیندہ سماعت پر کیس کے مزید گواہان کو طلب کرلیا ۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے حق میں وزیراعظم کی وضاحتوں پر اپوزیشن کا انتہائی اقدام

سماعت کہ بعد مئیر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے نامزد ہونے کہ بعد مجھ پر 40 مقدمات ڈالے گئے ایک ہی دن میں 20 20 ایف آئی آر کاٹی گئیں ۔

دیگر مقدمات میں وکلا کی عدم حاضری کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 جون تک ملتوی کردی ۔

سانحہ 12 مئی کیا تھا؟

12مئی دو ہزار سات، کراچی میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ،ِ قتل و غارت گری ،خونی دن، کراچی کی تاریخ کا ایک خون آشام دن ثابت ہوا۔ 2007 کو وکلاء برادری تحریکیں چلا رہی تھی۔ اور عدلیہ بحالی کی تحریک لئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کراچی ایئرپورٹ ہی پہنچے تھے کہ شہر میں فساد برپا ہوگیا، کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔جہاں دیکھو آگ ہی آگ، 50 افراد جاں بحق تو 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے،کروڑوں روپے کی املاک گاڑیاں موٹر سائیکلیں جلا کر بھسم کردی گئیں تھیں۔