آئی ایم ایف پروگرام:کتنا فائدہ،کتنا نقصان؟

تحریر:اظہر تھراج

آئی ایم ایف پروگرام:کتنا فائدہ،کتنا نقصان؟


پی آٹی آئی حکومت کو جن مسائل کا سامنا ہے،سب کو اس کا ادراک تھا لیکن پی ٹی آئی کی قیادت حقیقت کے برعکس جلسوں میں جوش پیدا کرنے کےلیے دعوے کرتی رہی۔ ملکی، عالمی میڈیا چیخ چیخ کر بیان کرتا رہا کہ پاکستان کی معاشی حالت یہ ہے، آئندہ حکومت کو معیشت کیسی ملے گی؟ دنیا حقیقت بتاتی رہی اور پی ٹی آئی قیادت مثالیت پسند بنی رہی۔ اسی طرح جیسی مثالیت پسندی صدیوں پہلے افلاطون نے بیان کی تھی اور پی ٹی آئی کے ارسطو کہتے ناں بھائی ناں ایسا نہیں ہے، ہم تو 100دن میں دودھ اور شہد کی نہریں نکال کے دکھائیں گے،قیادت اچھی ہوگی تو لوگ ٹیکس لے کر ایف بی آر کے دروازے پر پہنچیں گے،ہم خودکشی کرلیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن ہوا کیا ؟پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ” بلومبرگ “ نے خبر دار کیا تھا کہ معاشی چیلنجز آنیوالی حکومت کا استقبال کرینگے، نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے خراب معیشت کی کالی بلی سے بچنے کی کوشش کی گئی۔9ماہ ضائع کرنے کے بعد وہی کیا گیا جو شروع میں ہی کرلینا چاہئے تھا۔حقیقت میں حکومت خودکشی کرچکی ہے یہ خود کشی آئی ایم ایف کے پاس نہ جاکر نہیں کی گئی بلکہ ان کے تختہ پر ہی لٹک کر حرام موت کا تمغہ سینے پر سجایا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ویسی ہی غلطی کی ہے جو ماضی میں پرویز مشرف نے امریکہ سے 20ارب ڈالر لے کر کی تھی،اس غلطی میں حکومت کو فرق پڑے نہ پڑے۔ عام پاکستانیوں کی زندگیاں ضرور ڈسٹرب ہونگی، پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی ہیں،عمران خان کی حکومت نے کڑوی گولی نگلی ہے جو وہ نہیں کھانا چاہتی تھی کیونکہ اس سے ان کا ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ گھر دینے کا منصوبہ پورا ہوتا ہوا مشکل نظر آتا ہے،ٹیکسز بڑھیں گے،سبسڈیز ختم ہوجائینگی،مہنگائی مزید بڑھے گی،مشیر خزانہ لاکھ سبز باغ دکھائیں لیکن جب ڈالر بڑھے گا،تیل کی قیمتوں کو پرلگیں گے تو اعلان کردہ 216ارب روپے کی سبسڈی بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوگی۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان کی معیشت تین سال کیلئے ایک ڈسپلن کے تحت چلے گی جو یقیناً آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہوگی،کاروبار میں استحکام آجائے گا۔غیریقینی کے بادل چھٹ جائینگے،اگر حکومت سرمایہ داروں کو اعتماد دینے میں کامیاب ہوگئی تو ملک میں سرمایہ کاری آنے کا بھی امکان ہے، معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اس بار بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال سے بھی زیادہ ہوگا۔اللہ نہ کرے لیکن حالات بتارہے ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہونگے۔

آئی ئی ایم ایف مغرب کی معاشی سیاست کو کنٹرول کرنے کا ایک ہتھیارہے، اس پر امریکا اور مغربی ملکوں کی اجارہ داری ہے۔ قرض لینے والے ملکوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ ان ملکوں کی خارجہ پالیسی پر بھی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ پاکستان چاہتا تو ترکی کی طرح آئی ایم ایف کو ٹھینگا دکھا سکتا تھا، اردگان کو تو امریکی پابندیاں نہ جھکا سکیں لیکن ہمارا ”اردگان“ سجدہ ریز ہوگیا، اب ان کی اپنی شرائط ہیں ،وہ اپنے ہنٹر سے معاشی گھوڑا دوڑائیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، وینزویلا کے برے حالات،جہاں امریکہ اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتا ہے، پاکستان پر آئی ایم ایف کا بڑھتا ہوا کنٹرول وہ وجوہات ہیں جو امریکہ کی مستقبل کی خواہش کا پتہ دے رہی ہیں ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنے آپ کو آزاد ادارہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، آئی ایم ایف میں ساڑھے 17فیصد شیئر امریکہ کا ہے، امریکہ کا اس پر اثر ورسوخ بھی زیادہ ہے، امریکہ آئی ایم ایف کو سالانہ 170 ارب ڈالر دیتا ہے جو مختلف ممالک کو قرض کے طور پر دیے جاتے ہیں۔ورلڈ بینک کی حالت بھی یہی ہے ،اس کا صدر بھی امریکہ کا شہری ہی بنتا ہے اور اسے ڈائریکٹ امریکی صدر ہی تعینات کرتے ہیں۔امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے پہلے ممالک کی معیشت کو تباہ کرتا ہے پھر بیل آﺅٹ پیکج دیتا ہے پھر اپنی شرائط منوانے کیلئے حکومتوں پر دباﺅبڑھاتا ہے،ایکواڈور، وینزویلا کی زندہ مثالیں موجود ہیں،ایکواڈور میں پہلے معیشت تباہ کی گئی پھر آئی ایم ایف کے ذریعے پیکج دیا گیا اور آخر کار مطلوب ملزم جولین اسانج کو وہاں سے ملک بدر کرایا گیا،اب وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت ختم کرنے کیلئے کھیل کھیلا جارہا ہے جس منصوبے پر امریکہ ایک عرصے سے کام کررہا تھا۔

پاکستان کو ایک عرصے سے آئی ایم ایف کہتا رہا ہے کہ پاکستان سٹیٹ بینک کو آزاد ادارہ ہونا چاہئے،اسے وزارت خزانہ کے اثر ورسوخ سے پاک ہونا چاہئے،اب وہ اپنا ہی بندہ لانے میں کامیاب ہوگیا ہے،اب وہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا کرتے ہیں ہم سے کیا چیز مانگتے ہیں اس کا وقت کے ساتھ فیصلہ ہوجائے گا ۔گزشتہ برسوں میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 21پروگرام دئیے صرف اسحاق ڈار کے ساتھ طے پانیوالا پروگرام مکمل ہوا،ان پروگرام کا نامکمل ہونا آئی ایم ایف کی بات نہ ماننا تھا،عموماً آئی ایم ایف 6ماہ میں پروگرام کی نظر ثانی کرتا ہے لیکن پاکستان کے معاملے میں تین ماہ میں نظر ثانی کی جاتی ہے،حالیہ پروگرام میں آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے میں جو رکاوٹ تھے ان کو ہٹا دیا گیا ہے، اسد عمر نے ان کی کچھ شرائط ماننے سے انکار کردیا تھا ان میں سے ایک اداروں کی نجکاری تھی، سٹیل مل ، ہسپتالوں کی نجکاری۔

امریکہ پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی بات منوانے کیلئے پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ طالبان پر دباﺅڈالا جائے، ادھر طالبان پاکستان کی بات نہیں مان رہے، پاکستان کا طالبان پر وہ کنٹرول نہیں رہا جو پہلے تھا،افغانستان کے ستر فیصد سے زائد حصے پر ان کا کنٹرول ہے،امریکہ تو کجا وہ کسی کو خاطر میں نہیں لارہے،وہ امریکہ کو ملک سے بھگانے کے ساتھ ساتھ غنی حکومت کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں،دوسرا ایران کیخلاف بننے والے اتحاد کیلئے پاکستان کی حمایت مانگی جارہی ہے،امریکہ ایران کو مسلسل دھمکیاں دے رہا،بحری بیڑے سے اس کا گھیراﺅ کرچکا ہے،ایسے وقت میں اگر پاکستان آئی ایم ایف کے بنے گئے جال میں پھنس گیا تو پاکستان کیلئے بڑی مشکل ہوجائے گی کیونکہ پاکستان نہ تو ایران کیخلاف جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کا ساتھ دے سکتا ہے،ہوشمندی سے کھیلا گیا تو ستے خیراں۔اگر قومی کرکٹ ٹیم کی طرح کھیلے تو پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

نوٹ:ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer