نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر فیصلہ

نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر فیصلہ


  (24نیوز): احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو ایک ہفتے اور مریم نواز کو ایک ماہ کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی منظوری دے دی، ایس ای سی پی کی افسر سدرہ منصور نے اپنا بیان رکارڈ کرا دیا، خواجہ حارث نے سدرہ منصور پر جرح مکمل کرلی۔

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں ٹرائل شروع ہو گیا۔نوازشریف اپنی صاحبزادی اور داماد کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے،نیب کورٹ کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔ نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 20 سے 27 نومبر تک اور مریم نواز کو ایک ماہ تک حاضری سے استثنیٰ کی منظوری دے دی۔سماعت کے دوران ایس ای سی پی کی خاتون افسر سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ 18اگست کو وہ نیب کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئیں، تمام دستاویز تفتیشی افسر کو پیش کیں۔

سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا حدیبیہ پیپر ملز کی2000سے 2005 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق نوازشریف ڈائریکٹر رہے نہ شیئرہولڈر، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح میں اعتراض اٹھایا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں۔ جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون کے مطابق فوٹو کاپیاں ہی کافی ہیں، سدرہ منصور نے کہا کہ یہ نقول کمپنیز نے ایس ای سی پی کو فراہم کیں۔خواجہ حارث نے کہا دستاویزات پر مہر یا سیل موجود نہیں،سدرہ منصور نے کہا کہ دستاویزات پر مہر یا سیل کا ہونا ضروری نہیں، خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے پر عدالت نے سماعت بائیس نومبر تک ملتوی کر دی۔