عمران خان کے خلاف دائر انتخابی ضابطہ اخلاق ورزی کیس کی سماعت ملتوی


 اسلام آباد(24نیوز): الیکشن کمیشن نے این اے 63 اور این اے 162 کے ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کردی۔ چیف الیکشن کمشنر کہتے ہیں 4 دسمبر کو دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عمران خان کے وکیل شاہد گوندل اور علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ شاہد گوندل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو چیلنج کر رکھا ہے، ہائی کورٹ نے 29 نومبر  تک سماعت ملتوی کر رکھی ہے،  چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عجیب سی بات ہے کہ عدالتوں کی تاریخوں کے باعث ہمیں بھی صرف تاریخ دینی پڑتی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے وکیل سے ہائی کورٹ کے حکم نامے کی کاپی مانگ لی اور کہا کہ ہمیں وہ آرڈر دکھائیں جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناعی دیا ہو،علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ 4 مئی کو ہائی کورٹ مزید کاروائی سے روکنے کا حکم دیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کاروائی نہ کرنے کے لئے کوئی حکم امتناع جاری نہیں کیا،انتخابی ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور آئین کے مطابق بنتا ہے، کیا اب اس انتخابی ضابطہ اخلاق کو ختم کر دیا جائے، الیکشن کمیشن نے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 4 دسمبر کو دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیں گے، الیکشن کمیشن نے این اے 120 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی تمام مقدمات کی سماعت بھی 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان اور ن لیگی ارکان اسمبلی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کئے تھے۔