"کاروبا رکا تمام ریکارڈ  ایجنسیاں لے گئیں"


اسلام آباد(24نیوز) سابق وزیراعظم  نواز شریف سے بطور ملزم پوچھے جانے والے151 سوالات کی کاپی 24 نیوز نے حاصل کر لی، ان کا کہنا تھا کہ 1999 کے مارشل لاء کے بعد ہمارے کاروبارہ کا ریکارڈ ایجنسیاں لے گئیں تھیں۔

تفصیلات کےمطابق نواز شریف سے بطور ملزم پوچھے جانے والے151 سوالات کی کاپی 24 نیوز نے حاصل کر لی، ان سے پوچھے جانے والے سوالات میں  گواہ واجد ضیاء اور تفتیشی افسر  کا کہنا تھا کہ آپ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں کیا کہیں گے؟تفتیشی افسر کے مطابق آپ ہل میٹل اور العزیزیہ کمپنی بنانے سے متعلق منی ٹریل دینے میں ناکام رہے؟ آپ کے خلاف کیس کیوں بنایا گیا اور گواہوں نے آپ کے خلاف گواہی کیوں دی؟آپ اپنے دفاع میں کوئی شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اس کے علاوہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟کیا آپ اس ریفرنس میں بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں؟

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نےالعزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت کی،  نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ 1999 کے مارشل لاء کے بعد ہمارے کاروبار کا تمام ریکارڈ  ایجنسیوں نےقبضے میں لے لیا   تھا اور اس حوالے سے شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، سابق وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے ساتھ یہ صرف 1999 میں نہیں ہوا، یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، ہمارے خاندان کی درد بھری کہانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  1972 میں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل مل اتفاق فاؤنڈری کو قومیا لیا گیا، کسی نے نہیں پوچھا کہ کھانے کے پیسے بھی آپ کے پاس ہیں یا نہیں، میں تو 1972 میں سیاست میں بھی نہیں تھا 80کی دہائی میں سیاست شروع کی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے، اس سے قبل احتساب عدالت نے انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں 11 سال قید کی سزا سنائی تھی،  ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن میں صرف 2 دن باقی ہیں۔