حکومت نے ایس پی طاہر کے قتل کا نوٹس لے لیا

حکومت نے ایس پی طاہر کے قتل کا نوٹس لے لیا


اسلام آباد(24نیوز) وزیراعظم عمران خان  نےطاہرداوڑ کےقتل کا نوٹس لے لیا، وزیرمملکت شہریارآفریدی کا کہنا تھا کہ طاہرداوڑ کےقتل میں ملوث عناصر کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق  ایس پی طاہر داوڑ کے قتل  کے معاملہ  پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا، اپنے ٹوئٹ میں" خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی کہ وہ  اسلام آباد پولیس کے ساتھ تعاون  کرے،  انکوائری کا کام وزیر مملکت شہریار آفریدی کریں  اور جلد از جلد رپورٹ پیش کریں"ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کو خود دیکھ رہاہوں۔

 

دوسر ی جانب وزیر مملکت شہریار آفرید ی کا سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہو ئے کہنا تھا کہ ایس پی طاہر داوڑ شہید پاکستان کے بہادر سپوت تھے، اُن کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے چاہے وہ سرحد پار افغانستان میں ہی کیوں نہ چھپےہوں، میں نےایس پی داوڑکی لاش لینےطورخم سرحدجاناہے، ایس پی داوڑخان شہیدپاکستان کاغیرت مندبیٹاتھاان پر 2بارخودکش حملہ کیا گیا شہید طاہر داوڑ کاگھر والوں کو آخری  پیغام تھا کہ میں محفوظ ہوں،  لیکن ان کو مسلسل دھمکیاں مل رہیں تھیں، اسلام آباد میں لگے سکیورٹی کیمرے چہرے شناخت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے  ، 1800 سو سے زائد نصب کئے گئے کیمرے ناکارہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیف سٹی  منصوبے کی انکوائری کرائی جائے  13 نومبر کو ان کی ویڈ یو منظر عام پر آئی،   ان کی جان کو اتنا خطرہ تھا کہ وہ سات سال کے پی کے سے دور رہے، کچھ لوگ پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے، ایوان میں طاہر داوڑ شہید کے بلنددرجات کے لئے دعا بھی کی گئی۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان کے اغوا اور قتل پر اراکین پارلیمنٹ نے تشویش اور شدید الفاظ میں مذمت کی ، اراکین پارلیمنٹ کا کہناتھا کہ یہ افسوس ناک ہےکہ حکومت ابھی تک حقائق تک نہیں پہنچ سکی، حکومت سیف سٹی کیمرے خراب ہونے کا بہانہ بنا رہی ہے،   علاوہ ازیں ایس پی طاہر داوڑ کی ہلاکت پر افغان ناظم الامور کی دوبار دفترخارجہ طلبی کی گئی، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے  واقعہ کی شدید مذمت ہو ئےافغان حکومت کو فی الفور میت کی حوالگی سے متعلق کہا، افغانستان میں پاکستان کے سفیر نے بھی تاخیر پر احتجاج کیا۔

دوسری جانب افغانستان میں شہید ایس پی طاہر داوڑ کی نمازجنازہ افغان صوبہ جلال آباد میں ادا کردی گئی ہے، گورنر ننگرہار حمایت اللہ وزیری نے بھی نمازجنازہ میں شرکت کی، میت کوپاک افغان سرحد روانہ کردیا گیا، اسلام آباد  کے شہریوں  کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہر کےاغوا اور قتل کے واقعہ پر پریشان ہیں ، سینئر پولیس افسر کو ملک کے سب سے محفوظ شہر سے اغوا کرلیاگیا تو عام شہری خود کو کیسے محفوظ سمجھیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ نے اسلام آباد سے اغوا ایس پی طاہرداوڑ کے افغانستان میں قتل اور لاش ملنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ شہید کا جسدخاکی جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے حوالے کردیا گیا ہے، 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے پشاور کے ایس پی کو نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا ہے، مقتول کی تشدد زدہ نعش افغان صوبے ننگرہار سے بر آمد ہوئی۔