میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ،فیصلہ آگیا

میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ،فیصلہ آگیا


لاہور( 24نیوز ) میاں نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملہ پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آگیا،عدالت نے درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکا لنے کا فیصلہ کل تک ملتوی کردیا، لاہورہائیکورٹ کل صبح ساڑھے11بجےدرخواست پر سماعت کرے گی,وفاقی حکومت اور نیب نے جواب عدالت میں جمع کرادیا، ہائیکورٹ میںمیاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط طور پر نکالنے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ  درخواست پر سماعت کی،وفاقی حکومت نے میاں نوازشریف کی درخواست کی مخالفت کی، وفاق نے45صفحات پرمشتمل جواب عدالت جمع کرایا۔

لاہورہائی کورٹ درخواست ناقابل سماعت قراردےکرمسترد کرے۔ میاں نوازشریف کےخلاف مختلف عدالتوں میں کیسززیرسماعت ہیں۔ میاں نوازشریف کانام نیب کےکہنے پرای سی ایل میں ڈالاگیاتھا۔لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ سماعت پر بھی وفاق نے اعتراض اٹھایا،کیس کی سماعت کے دوران وکیل امجد ملک نے دلائل دیئے کہ نیب کے مطابق ان کا ای سی ایل میں نام ڈالنے اورنکلوانےکےفیصلے میں کوئی کردارنہیں، وفاقی حکومت نے بھی میاں نوازشریف کی تشویش ناک حالت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

عدالت نےایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان سے استفسار کیا ہےکہ یہ درخواست کیسے قابل سماعت نہیں، اگرکوئی درخواستگزارکراچی کا رہائشی ہوتو وہ اپنے قریبی علاقے کی ہائیکورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ ہر کیس کو اس کے حالات کے مطابق دیکھا جائے گا، درخواست گزار کے وکیل نے جتنے کیسز کا حوالہ دیا ہے انکی نوعیت مختلف ہے،احتساب عدالت کے جج نے سزا دی، اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔جہاں تفتیش چل رہی تھی اسی نیب نے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی، یہاں صرف چودھری شوگرملز کیس چل رہا ہے، نوازشریف کو 6ہفتے کی ضمانت دی گئی اورواضح کہا کہ پاکستان چھوڑکرنہیں جا سکتے۔

وکیل وفاق نے کہا کہ ایون فیلڈکیس میں نوازشریف،مریم نواز،حسن اورحسین نوازکا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ،سپریم کورٹ نے نوازشریف اوردیگرکے خلاف ریفرنس دائرکرنے کا کہا ، نوازشریف کی ای سی ایل کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ ہی سن سکتی ہے،قانونی تقاضے پورے کیے اور میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ 

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطل کی گئی،اس کیس میں نوازشریف کو جرمانہ ہوچکا ہے۔ نواز شریف کوجرمانہ ہوا تھا اسی کے برابر بانڈز مانگے گئے۔ عدالت نے کہا کہ ہم اس کو بعدمیں دیکھیں گے،پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہم اس کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں، نوازشریف کے خلاف چودھری شوگر ملز کیس تو لاہور میں بھی چل رہا ہے۔

گزشتہ روز لاہورہائیکورٹ کےجسٹس علی باقرنجفی اور جسٹس سردار احمدنعیم پرمشتمل بینچ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سےنکالنےسےمتلعق درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزارکے وکیل امجدپرویزنےکہاوفاقی کابینہ نےنوازشریف کانام ای سی ایل سےنکالنےکی مشروط اجازت دی جبکہ اسلام آبادہائی کورٹ نےمیرٹ پرضمانت منظورکی اورکوئی شرط عائد نہیں کی۔ امجدپرویزنےکہااگرعدالتی حکم پرعملدرآمد نہیں ہوتاتوعدالت اپنادائرہ اختیاراستعمال کرے۔ ریاست کااس معاملےسےکوئی تعلق نہیں، ریاست کہاں سےآگئی؟

عدالت نےاستفسارکیاکہ کیاسفارشات نیب اسلام آبادیانیب لاہورنےدی ہیں؟ وکیل امجدپرویزنےکہانواز شریف کےخلاف نیب میں کیسزہیں جبکہ ایون فیلڈریفرنس بھی زیرسماعت ہے۔  وکیل امجدپرویزنےکہاکہ نوازشریف کی سزا معطل ہوچکی ہے۔ جسٹس باقرنجفی نےریمارکس دیئے، میرے خیال میں سزا معطل ہوئی ہےجرمانہ نہیں۔

وفاقی حکومت کےوکیل نےمیاں نوازشریف کانام ای سی ایل سےنکالنےکی مخالفت کرتےہوئےدرخواست کےقابلِ سماعت ہونےپراعتراض اٹھادیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کےوکیل سےکل تک تحریری جواب طلب کرلیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔