ایون فیلڈ ریفرنس: مریم نواز کے بیان، ٹرسٹ ڈیڈ کے مندرجات میں تضاد


  احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات کے حصول کیلئے برٹش ورجن آئی لینڈ حکام کو جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کی کاپیاں اوران کے جواب طلب کرلیے۔

ایسے شواہد نہیں کہ مریم نواز نےایون فیلڈپراپرٹیز کا کرایہ دیا ہو    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کی۔ سماعت کی نواز شریف اور مریم نواز کو موسم کی خرابی کے باعث آج کی حاضری سے استثنیٰ مل گیا تاہم کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

 یہ بھی پڑھیں:نواز شریف،مریم نواز کی تقاریر نشر کرنے پرعبوری پابندی عائد

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ملک نے واجد ضیاء پر جرح شروع کی تو ایم ایل ایز سے متعلق سوالات شروع کئے۔ گواہ سے پوچھا کہ نیلسن کے رجسٹرڈ شیئر کب اور کس کے نام جاری ہوئے تھے۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ مریم نواز کے بیان اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مندرجات میں تضاد ہے،اس لیے ان کی نظر میں یہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔ مریم نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ انہیں یاد نہیں کہ نیلسن ایند نیسکول کے بیئرر شیئرز ان کے پاس  ہیں  حسین نواز نے بھی اس معاملے پر نفی میں جواب دیا۔

 اس پرامجد پرویز نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ جھوٹ بول رہاہے۔ جس پر نیب پراسکیوٹرنے کہا کہ آپ گھبرائیں مت چیزیں سامنے آنے دیں۔واجد ضیاء نے بتایا کہ حسین نواز نے 1994 سے 2006 تک کسی فیملی ممبر کے ان کمپنیوں کے بینیفشل مالک رہنے کے سوال کو مسترد نہیں کیا. کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے امجد پرویز نے اس بیان پر بھی اعتراض کیا۔واجد ضیاء نے بتایا کہ کوئی ایسی دستاویز حاصل نہیں ہوئی جن سے ظاہر ہو کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ پراپرٹیز کا گراؤنڈ رینٹ یا سروس پرووائیڈر کی فیس ادا کی ہو۔ اس کے بعد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔