اصلی شیر کون ہیں؟ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں انکشاف کر دیا


اسلام آباد ( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تاحیات نااہلی سےمتعلق فیصلہ کے بعد عدلیہ مخالف نعرے لگے۔ بیٹیوں کو حصار کے طور پر آگے کر دیا گیا۔ غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔

سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل عدالت کے باہرعدلیہ مخالف نعرے لگائے گئے۔عدلیہ مردہ باد کے نعرے عدالت کی جانب سے آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ سنانے کے بعد لگائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیرقانونی ہے تو گرا دی جائے، چیف جسٹس 

صحافی حامد میر نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو روکنا چاہیے تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس اہلکار کیسے روک سکتے تھے۔ بیٹیوں کو حصار کے طور پر آگے کر دیا گیا۔ خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں۔ غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی شیر کو نہیں جانتا۔ ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ ہیں اصل شیر ۔

پڑھنا نہ بھولیں: جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ،تحقیقات میں پیشرفت نہ ہوسکی 

چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔ چاہتے ہیں کہ پیمرا آزاد ادارہ ہو۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی صبراور تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے۔ کسی کی تذلیل مقصود نہیں۔