حافظ آبادشہرکاایک چکر۔۔

مناظرعلی

حافظ آبادشہرکاایک چکر۔۔


آبائی علاقہ کسےاچھا نہیں لگتا خواہ وہ جتناہی پسماندہ کیوں نہ ہو،انسان جس مٹی میں اپنابچپن گزارکربڑا ہوتاہے وہاں تواس کی جگہ جگہ یادیں بکھری ہوتی ہیں لہذاوہ چاہے دنیاکے خوبصورت ترین علاقوں میں رہتاہو مگرجوپیاراسے اپنے آبائی علاقوں سے ہوتاہے وہ کسی اورجگہ سے نہیں،اسی پیارنے مجھے حافظ آبادپرقلم اٹھانے پربھی مجبورکردیاہے۔۔

سونااگاتے کھیت،مٹھاس میں اپنی مثال آپ گنے کی پیداوار،گندم اورخاص طورپرچاول کے حوالے سے ملک بھرمیں جاناجانے والاضلع،مگرحافظ آبادشہرکے اندرداخل ہوتے ہی گھٹن محسوس ہوناشروع ہوجاتی ہے،لاہورکوجاننے والے اچھی طرح جانتے ہی کہ آج کل اندرون شہرمیں ٹریفک کتنی بے ہنگم ہے،جس طرح گاڑی لے کر اندرون لاہورچلے جانا کسی عذاب میں خود کودھکیلنے کے مترادف ہےیہی حال حافظ شہرکاہے،شہری آبادمیں کوئی ایساراستہ نہیں جسے اختیارکرکے آپ آرام سے اپنی منزل مقصودتک پہنچ سکیں،انتہائی تنگ سڑکیں اورپھران پرتجاوزات کی بھرمارنے توجیسے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کوبری طرح بے نقاب کررکھاہے،فٹ پاتھ نام کی توکوئی چیزیہاں نظرنہیں آتی بلکہ آدھی سڑک پربھی دکانداروں نے دھڑلے سے اپناقبضہ جمارکھاہے مگرحیرت ہے یہاں کے ذمہ داروں پرکہ ان کی نظروں سے یہ سب کچھ چھپاہواہے؟؟۔اس شہرکی سڑکیں،چوک چوراہے تجاوزات مافیا کے لیے کسی جنت سے کم نہیں،جہاں مرضی ہے اپناسامان بکھیرکردکان کھول لیں اورگزرنے والوں کے لیے عذاب بنابیٹھیں،کسی نے کہاں منع کرناہے،پارکنگ سڑکوں پرہے اورسڑکییں پتہ نہیں یہاں کس بلا کانام ہے؟میں کسی پربغیرثبوت اس معاملے میں ملوث ہونے کاالزام تونہیں لگاناچاہتامگرصورتحال اسی طرف اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے، لاہوراسلام آباد موٹروے پرخانقاہ ڈوگراں انٹرچینج سے حافظ آبادشہرکی طرف جائیں توایک اچھی کارپٹڈسڑک اوردائیں بائیں سرسبزکھیت اس علاقے کی زراعت کی ترقی کی خبردیتی ہے مگریہ خوبصورت راستہ جونہی آپ کونہروں سے آگے شہری آبادی میں لے کر جاتاہے تومتعلقہ حکام کی سب کارکردگی کابھانڈاکسوکی روڈپرہی بیچ سڑک پھوٹ جاتاہے،دھول مٹی سے گزرکرپیدل،سائیکل یاموٹرسائیکل سوارتوپتہ نہیں کیسے اپنی اصلی شکل میں گھرپہنچتے ہوں گےالبتہ گاڑی پربھی مٹی کارنگ ایسے چڑھتاہے کہ باہرنکل کر اپنی ہی گاڑی پہنچاننامشکل ہوجاتاہے۔

حافظ آبادشہرکی عجیب بدانتظامی ہے کہ یہاں جگہ جگہ کوڑاکرکٹ کے ڈھیرآپ کوچیخ چیخ کردوبارہ یہاں قدم نہ رکھنے کامشورہ دیتے ہیں مگرمجبوری ہی انسان کوکہیں جانے پرآمادہ کردیتی ہے۔اس ضلعے سے ہمیشہ سے ہی مختلف منتخب نمائندے وزرائے اعظم اوروزراءاعلیٰ کے قریب ترین رہ چکے ہیں مگراس شہرکی حالت زار بدلنے کی شایدہی کسی نے کوشش کی ہوگی،کسی کانام لکھنے سے الزام کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی کالگ جائے گااس لیے اس ضلعے کوسمجھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کتنے کھوکھلے نعرے لگاکراقتدارکی کرسی تک پہنچااورپھراقتدارکے مزے لوٹ لوٹ کراپنے دن پورے کیے،کاش انہیں برسراقتدارآکراس شہرکے اندربھی کچھ کام کرنے کی توفیق ہوتی توآج لوگ گھنٹوں ٹریفک جام اورتعفن زدہ ماحول میں رہنے پرمجبورنہ ہوتے۔

مجھے یہ تومعلوم نہیں کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے مگریہ کافی لوگوں سے سن چکاہوں کہ پی ٹی وی پرطارق عزیزشومیں کسی دورمیں ایک سوال کیاگیاتھا کہ پاکستان کاگندہ ترین شہرکون ساہے توایک شخص نے حافظ آبادکانام لے کرایک بڑا انعام وصول کرلیاتھا،اب طارق عزیزصاحب جیسے اصول پسنداوراپنے شوکومعروف بنانے کاگرجاننے والے شخص پراقرباپروری کاتوالزام نہیں لگاسکتے کہ انہوں نے خودہی اپنی مرضی سے ایساکرایاہوگا،سوال میں دم تھااوراس کے جواب پر آپ کویقین نہ آئے توایک چکرحافظ آبادشہرکالگالیں۔۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔