سندھ کے سکول،دعوے بڑے،سہولتوں کا فقدان

سندھ کے سکول،دعوے بڑے،سہولتوں کا فقدان


سکھر( 24نیوز ) سندھ میں تعلیمی اداروں کی بہتری کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،عمارتیں خستہ،اساتذہ کی تعداد کم ہونے سے طلبا وطالبات پریشان ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سکھرسکول میں زیر تعلیم 400 طلبہ کیلئے صرف ایک استاد ہے،گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز پرائمری سکول حاجی مراد خروس کی عمارت اس قدر خستہ حال ہوچکی ہے کہ چھت سے گرنے والے سیمنٹ سے کئی لوگ زخمی بھی ہوئے، صرف یہ نہیں اسکول میں زیر تعلیم چار سو طلبہ کیلئے صرف سات اساتذہ موجود ہیں۔
سکھر کے علاقے بچل شاہ میانی میں 1976 میں تعمیر کیا جانے والا گرلز اینڈ بوائز اسکول مراد خروس شدہد خستہ حالی کا شکار ہے، اسکول کی عمارت خطرناک حد تک مخدوش ہوچکی ہے، کلاس رومز کی چھت سے پلستر گرنا معمول بن چکا،جس سے کئی طلبہ اور اساتذہ زخمی بھی ہوئے۔

 یہ بھی پڑھیں:  نئے صدر کا انتخاب کب ہوگا؟

اسکول کی عمارت میں 6 کمرے ہیں وہ بھی خستہ حال ہیں، عمارت گرنے کے خوف اور فرنیچر کی کمی کے باعث بچے کھلے آسمان تلے زمین میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں
حکمران یوں تو ملک میں تعلیمی ایمرجنسی اور نظام تعلیم کو جدید طرز استوار کرنے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن آج کے دور جدید میں بھی اسکولوں کی عمارتیں مخدوش ہیں، متعدد اسکولوں میں پینے کا پانی اور بجلی بھی میسر نہیں، صورتحال کی وجہ سے طالب علموں کو سخت مشکل کا سامنا رہتا ہے۔