پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال، کامیابیوں اور ناکامیوں پر ایک نظر

وقار نیازی

پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال، کامیابیوں اور ناکامیوں پر ایک نظر


پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے جلسے جلوسوں میں گزشتہ حکومتوں کی ناکام پالیسیوں اور ان کی کرپشن پر خوب تنقید کی۔ عمران خان نے جلسوں میں عوام کو سہانے خواب دکھائے اور بتایا کہ ملک ٹھیک کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اس طرح انھوں نے عوام کو خوب اعتماد میں لیا۔ 25 جولائی 2018 کو الیکشن ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اور 18 اگست 2018 کو عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے پر ایسا لگ رہا تھا جیسے اب ملک میں دودھ کی ندیاں بہنے لگیں گی۔ لیکن عمران حکومت جب حکومت میں آئی تو شائد سب کچھ الٹا ہونے لگ گیا وہ سب وعدے، دعوے ایسے ثابت ہونے لگے جیسے "لو میرج" میں شادی سے قبل لڑکا لڑکی سے کرتا ہے۔ 

لیکن بہرحال یہ تو ماننا پڑے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو جو سب سے بڑا مسئلہ درکار تھا وہ قومی معیشت کی کمزوری تھی۔ پاکستان کو درحقیقت اسی وقت قرض کیلئے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکٹانا چاہیئے تھا لیکن عمران خان کے نعرے ہی حکومت میں آنے کے بعد ان کے اور پوری قوم کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے، عمران خان پہلے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے جانے کیلئے ناں ناں کرتے رہے اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنے کیلئے غیر ملکی دورے کیے البتہ یہ دورے کامیاب ہوئے اور عمران خان دوست ممالک سے امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ امداد اس قابل نہیں تھی کہ اس سے ملک کے بیٹھی معیشت کو چلایا جاسکےاور اس بیٹھی معیشت کو چلانے کیلئے حکومت کو آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکٹانا پڑ گیا۔عمران خان کے بیسٹ بیٹسمین وزیر خزانہ اسد عمر جو کہ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے،وزارت ملنے کے بعد  بالکل ہی بے بس دکھائی دیئے، مہنگائی دن دن بدن بڑھتی گئی، ڈالر کی قیمت آسمان کو پہنچ گئی، پٹرول مہنگا، بجلی، گیس مہنگی اور یوں اپوزیشن اور عوام کے شدید دباؤ میں آتے ہوئے اسد عمر نے 18 اپریل کو وزارت خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی امیدیں دم توڑ گئیں اور لوگوں نے پی ٹی آئی پر انگلیاں اٹھانا شروع کردیں۔ اسد عمر کے استعفیٰ کے بعد حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ کا عہدہ دیا گیا۔ لیکن پھر بھی معاشی ترقی میں بہتری نہ آئی اور دن بدن معیشت کو شدید دھچکے جاری رہے، اس دوران عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مذکرات طے پائے اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو تین برس کے دوران چھ ارب ڈالر کا قرض دینے کی منظوری دی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد وہی ہوا جس کا ڈر تھا، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا اور ڈالر ، پٹرول کی قیمتیں ایک دم سے بڑھنے لگیں۔ جو کہ اب تک عوام بھگت رہی ہے۔ 

پی ٹی آئی کی حکومت میں منشور کی کمی دیکھنےکو ملی، وہ تمام وعدے جن کی بنیاد پر عوام نے ان کو ووٹ دیا سب الٹے پڑ گئے۔ عمران خان پروٹوکول کے خاتمے کی بات کرتے تھے اس کا خاتمہ نہ کیا جاسکے۔ عمران خان نے سوائے امریکا کے باقی تمام دورے پرائیویٹ طیاروں پر کئے۔ وزیراعظم، وزرااعلیٰ اور وزیروں نے سادگی کے نعرے ہوا کر تے ہوئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔

پی ٹی آئی کی کامیابیوں پر ایک نظر: 

خارجہ پالیسی میں بہتری: تحریک انصاف کی کامیابیوں پر نظر دوڑایں تو کہنا بالکل بجا ہوگا کہ خارجہ پالیسی میں کافی بہتری آئی ہے۔ بالخصوص امریکہ سے تعلقات میں بہتری لانا ایک اہم کامیابی ہے۔ دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنا،امریکہ ، سعودی عرب کے دورے ، قطر ، سعودی عرب اور چین کی جانب سے معاشی امداد حاصل کرنا موجوہ حکومت  کی بڑی کامیابی ہے۔

فاٹا کا انضمام: تحریک انصاف کی حکومت میں فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا گیا۔ اس مقصد کیلئے پہلے قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظوری لی گئی، بل کی حمایت میں 229 جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ آیا۔پھر وہاں پر الیکشن کرائے گئے جس میں پی ٹی آئی میں نے سبقت حاصل کی۔ بلاشبہ یہ حکومت پاکستان کی بڑی کامیابی تھی۔

 کرپشن پر کریک ڈاؤن: پاکستان تحریک انصاف نے ایک کام جو بالکل متحرک ہو کے کیا وہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا ہے، اس معاملے میں نیب کافی متحرک نظر آئی اور سیاسی اور غیر سیاسی کیسز سامنے لائے اور ان کو عدالت کے کٹہرے تک پہنچایا۔ یہاں یہ بات کہنا بالکل ٹھیک ہوگا کہ موجودہ حکومت نے بالکل ایمانداری سے کام کیا جہاں ملک کا پیسا لوٹنے والے اپوزیشن کے لوگوں کو پکڑا وہیں اپنے ہی حکومت کے وزیربلدیات علیم خان اوروزیرجنگلات سبطین خان کو بھی نیب نے پکڑا اور پوچھ گچھ کی۔

صحت انصاف کارڈ:وزیراعظم عمران خان نے  4 فروری 2019 کو ملک بھر میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے تقریباً 8 کروڑ شہریوں کے لئے مفت علاج معالجے کے لیے صحت انصاف کارڈ سکیم کے اجرا کا اعلان کیا ۔ 

غربت مٹاؤپروگرام:حکومت نے احساس کے نام سے غربت کے خاتمے کے نئے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے 80 ارب روپے کے سرمائے سے یہ پروگرام شروع کیا ۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

شجر کاری مہم: وزیرِ اعظم عمران خان کا  بڑا مشن ملک کو گرین پاکستان بنانا ہے۔ درخت انسانوں، جانوروں ، پرندوں سب کیلئے بہت اہم ہیں، اس مقصد کیلئے  پاکستان میں 10 ارب درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا۔عمران خان نےکچھ دنوں پہلے بھی قوم سے درخواست کی کہ ہر شخص اس سال 18 اگست کو 2، 2 پودے لگا کر اس مہم کا حصہ بنیں۔ یہ بات تو بلاشبہ بہت اچھی ہے، 2 پودے ایک آدمی کیلئے لگانا بالکل معمولی سی بات ہے، اگر قوم نے اس کال پر لبیک کیا تو اس چھوٹے سے اقدام سے پاکستان ہرا بھرا ہوجائےگا۔

پناہ گاہوں کا قیام: حکومت نے سڑکوں پر سونے والوں کا احساس کیا۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں مختلف جگہوں پر پناہ گاہیں قائم کیں۔ ان پناہ گاہوں میں جہاں غریب آدمی کو سر چھپانے کی جگہ ملی وہیں ان کے خوراک سمیت دیگر سہولیات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ 

کرتار پور راہداری:  پاکستان اوربھارت کے مابین کرتارپور راہداری پر مذاکرات کا پہلا مرحلہ 14 مار چ 2019 کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر ہوا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک کے مابین 2 اپریل کو واہگہ بارڈر پر مذاکرات طے پائے تھے تاہم بھارت نے ان مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیاتھا، 3 ماہ بعد بھارت نے واہگہ کے مقام پر ہی پاکستان سے مذاکرات کئے اور اس کی درخواست بھی اس بار بھارت کی طرف سے کی گئی۔کرتار پور راہداری پر ابھی بھی کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں بابا گرونانک کی برسی پر پاکستان نے تقریب بھی منعقد کی تھی جس میں پاکستانی سکھوں سمیت بھارتی سکھ برادری نے بھی شرکت کی۔

ویزا حصول کی آسانی: حکومت نے ایک سال کے دوران  میں کئی سالوں سے چلی آنے والی سخت پالیسی کو تبدیل کر کے آسان کیا۔کاروباری افراد بزنس ویزا فوراً حاصل کر سکتے ہیں۔ اب  چین، ملائیشیا، ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو 'ویزا آن ارائیول' یعنی پاکستان پہنچنے پر ان کو فوراً ویزا دیا جا سکتا ہے۔

مواصلات کے نظام میں بہتری: محکمہ ڈاک اور مواصلاتی نظام میں کافی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔وفاقی وزیر برائے ڈاک اور کمیونیکیشن مراد سعید کے مطابق محکمہ ڈاک نے ایک سال میں 18 ارب روپے کا منافع حاصل کیا جو کہ ماضی کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے اور وزارت کمینونیکیشن نے 52 فیصد اضافے کے ساتھ 43 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔

ایمنسٹی سکیم کی کامیابی:  اس سال ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا اور 70 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ تین ہزار ارب کے اثاثے ظاہر کیے گئے۔

ٹیکس کا نفاذ: چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس کے نفاذ کیلئے نیا لائحہ عمل دیا تو تاجر برادری نے احتجاج کیا اور ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی لیکن اس سے حکومت پر کوئی اثر نہ پڑا اور 50 ہزار کی سیل پر شاختی کارڈ کی کاپی اور سیلز ٹیکس میں کمی نہیں کی۔ ٹیکس کا نفاذ البتہ ٹیکس دینے والوں کو بوجھ لگتا ہے لیکن اس کا نفاذ ملکی معیشت کیلئے کافی سود مند ہے۔ ہمیں ٹیکس چوری کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا کیوں کہ یہ کلچر  ملک کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرتا جارہا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔