سانحہ اے پی ایس کو 4 سال بیت گئے، زخم آج بھی تازہ



پشاور(24نیوز) آرمی پبلک سکول سانحہ کے4سال مکمل ہوگئے، آج سے4سال قبل دہشتگردوں نے پشاورمیں آرمی پبلک سکول پرحملہ کیا، اس میں 140سےزائد طلباء،سٹاف، اساتذہ شہید ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میں آرمی پبلک سکول سانحہ کو چارسال برس بیت گئے، 16 دسمبر 2014 کا دن انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن جس روز کئی مائوں کی گودیں اجاڑ دی گئیں، آرمی پبلک سکول کےزخم آج بھی تازہ ہیں،سینکڑوں طلبہ وسٹاف کو زخمی کرادیاگیا، سانحہ کی یادیں آج بھی ان جیسی تازہ ہیں جب والدین نےطلبہ کوسکول بھیجا اورانکی میتیں انکوبجھوادی گئیں ، 24 نیوز سے گفتگو کرتے ہو ئے اسفندجو کہ دسویں جماعت کا طالبعلیم تھاشہید کی والدہ  کا کہنا تھا کہ آج بھی وہ ایک غمزدہ زندگی گزاررہی ہے، اتنا بڑاسانحہ زندگی بھرنہیں بھول سکتا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

 واضح رہے کہ16 دسمبر 2014  کو چھ دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا تھا اور ایک 140 سےزائد طلباء اور اساتذہ کو شہید کردیا تھا،  سکول کے شہید طلباءاور اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آج سکول میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ایسی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے،  سانحہ آرمی پبلک سکول مائیں دروازے تکتی رہ گئیں بچے سکول سے جنت چلے گئے۔

جنازوں پر بھول کئی بار دیکھیں ہیں

پھولوں کے جناروں کا عجیب ہی منظر تھا

سانحہ اے پی ایس کے شہداء کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر  رکن صوبائی اسمبلی دعاء بھٹوکی قیادت میں خواتین کارکنان نے شمع روشن کیں،ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کی حکومت میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قوم متحد ہے اے پی ایس کے شہیدبچوں کاغم آج بھی دلوں میں ہے، دہشت سے ٹمٹنے کے لیے ہم مضبوط ہیں اور شہداء کے لیے دعا گوہیں اور ورثاء کے اظہاء یکجہتی کرتے ہیں۔

16دسمبر ہی کے روز  وطن عزیز کو دولخت ہونے کا سوگ مناناپڑا، یوم سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا،47 برس بیت گئےپاکستان کو 2ٹکڑے ہوئےبنگلہ دیش میں رہ جانے والے پاکستانی آج بھی شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔