چیف جسٹس، عمران خان والی زبان استعمال کر رہے ہیں: مریم نواز


مانسہرہ (24نیوز)مانسہرہ میں  وزیر اعظم میاں محمد نواز کی صاحبزادی مریم نواز نے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ چیف جسٹس عمران خان والی زبان استعمال کریں گے تو جواب بھی ویسا ہی ملے گا، توہین عدالت وہ کر رہا ہے جس نے انصاف کی توہین کی ہے۔توہین عدالت کا نوٹس لینے والے بہت ہیں، عوام اپنے ووٹ کی توہین کا نوٹس لے۔

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ اب نواز شریف کا فیصلہ عدالتوں نے نہیں بلکہ عوام نے کرنا ہے ، اگر نواز شریف نے ایک پیسے کی بھی چوری کی ہوتی تو عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلے نہ آرہے ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے نواز شریف کے خلاف عمران خان والی زبان استعمال کی تو پھر اس کا جواب بھی اسی طریقے سے ملے گا جو نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو دیا جاتا ہے،آپ کون ہوتے ہیں کسی کی تضحیک کرنے والے ؟،آپ کون ہوتے ہیں مقبول لیڈر کی تو ہین کرنے والے ؟۔ان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت وہ کر رہا ہے جس نے اپنے منصب کی توہین کی ،آئین و قانون پر چلنے والے ججز کی بھی توہین کی ۔ اس میں نواز شریف کا کم نقصان ہے اور عدلیہ کا زیادہ نقصان ہے کیونکہ لوگوں کا عدالت عظمیٰ سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اپنے بیٹے سے فرضی تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو دفتر سے باہر کردیا گیا ،کیا عوام کے ووٹوں کی پرچی پھاڑ کر پھینک دینا چوری نہیں ،کیا عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنا دھاندلی نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ کبھی کہتے ہو نواز شریف ملک کے اندر نہیں آ سکتا ،کبھی کہتے ہو ملک سے باہر نہیں جا سکتا ہے ،مسئلہ کیا ہے ؟نواز شریف کا نام ایسی ایل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ،وہ اسی دھرتی کا بیٹا ہے ،ان کے باپ دادا کی قبریں یہاں ہی ہیں اور ہم نے بھی پاکستان میں ہی رہنا ہے ،فکر نہ کرہم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔

مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کبھی عدالت وزیر اعظم کو گاڈ فادر ،سیسلین مافیہ ،چور اور ڈاکوکہتی ہے اور کبھی کچھ گالیاں دی جاتی ہیں ،کیا یہ تو ہین نہیں ہوتی ؟،کیا آئین پاکستان میں گالی دینے کی شق ہے ،کیا آئین پاکستان میں انتقام لینے کی شق ہے ؟کیا آئین پاکستان میں بغض کی شق ہے ؟ ،عوام جاننا چاہتی ہے کہ منتخب نمائندوں کو چور ڈاکو کہہ کر کو نسے آئین کی تشریح ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ درست فیصلے کرتی تو وضاحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی ،قسمیں نہ کھانی پڑتیں ،درست فیصلوں کے بعد تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی ۔مریم نواز نے کہا کہ اگر توہین عدالت میں کسی کو پکڑنا ہے تو اس کو پکڑوں جس نے عدلیہ کے لیے شرمنا الفاظ کا استعمال کیا ،اس کو پکڑوں جو کہتا ہے عدلیہ نے دھاندلی کر کے نواز شریف کو جتا یا ،اس مولوی صاحب کو پکڑو جس نے سر عام گالیاں دیں ،یا مشرف کو بلاؤ۔