انقلابی دنیا کے ہیرو سعودی ولی عہد کی زندگی پر ایک نظر



سعودی ولی عہد محمدبن سلمان پاکستان کے دورےپرآرہے ہیں۔شاہی مہمان کے اس دورے سےپاک سعودیہ تعلقات ایک نئے دورمیں داخل ہوں گے۔سعودی ولی عہد اپنے انقلابی اقدامات کے باعث صف اول کےعالمی رہنماؤں میں شامل ہوچکے ہیں۔

 تینتیس سالہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 31اگست 1985کوریاض میں پیداہوئے۔سعودی ولی عہد نے اپنی ابتدائی تعلیم دارالحکومت ریاض سے حاصل کی اور ملک کے 10 بہترین طلبا میں اپنا نام شامل کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 24 سال کی عمر سے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔24 دسمبر 2009 میں انہیں ان کے والد کا مشیر خاص مقرر کیا گیا۔ایم بی ایس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع ہیں۔انہوں نے یہ عہدہ تیس برس کی عمر میں 2015میں سنبھالا۔شہزادہ محمد بن سلمان صوبہ ریاض کے گورنر بھی رہے۔21 جون 2017 کو شاہ سلمان نےولی عہد محمد بن نائف کومعزول کر کےبیٹےمحمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان اپنے وژن 2030کے حوالے سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن چکےہیں اور انہیں دنیائے عرب کے دوسرے رہنماؤں کے مقابلے میں بہت مختلف مثبت انداز سے دیکھا جارہا ہے۔ انہیں سعودی عرب کے اندر اور باہر ایک طاقتور شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وژن 2030کےمقاصدمیں سعودی عرب کی معیشت کو بڑھاوا دینا، خواتین کے لئے مساوی حقوق کے مواقع پیدا کرنا، آرٹ اور کلچر کو منظرعام پر لانا اور فروغ دینا اور سعودی عرب کو سیاحت دوست ممالک کی فہرست میں اول نمبر پر لانا شامل ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں عالمی رہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ مستقبل میں سعودی عرب کے ذہین، کامیاب، بہادر اور فیصلہ ساز نوجوان بادشاہ ہوں گے جو اقوام عالم کی قیادت کریں گے اور مسلم امہ خاص طور پر بہت ترقی کرے گی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔