احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج


اسلام آباد( 24نیوز ) ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے پرنواز شریف، مریم نواز ور کیپٹن(ر) صفدر کی سزا کیخلاف اپیلیں دائر کر دی گئیں، اپیلوں میں سزا کالعدم قرار دے کر بری کرنے کی استدعا کی گئی۔
ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، اپیلوں میں جج احتساب عدالت اور نیب کو فریق بنایا گیا۔۔ موقف اختیار کیا گیا کہ قید، جرمانے، نااہلی اورجائیداد قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ ہونے تک نوازشریف، مریم نواز اورصفدرکو ضمانت پررہا کیا جائے۔
اپیل میں نواز شریف کی چارج شیٹ کو بھی شامل کیا گیا,متن کے مطابق ضمنی اورعبوری ریفرنس کے الزامات میں تضاد تھا، حسن اورحسیں نوازکو ضمنی ریفرنس کا نوٹس نہیں بھیجا گیا۔

 یہ خبر بھی پڑھیں: قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف کا جیل سے قوم کے نام پیغام
متن میں ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ شواہد پر مبنی نہیں۔۔نیب آرڈیننس کی سیکشن اے 59 بھی ثابت نہیں ہوسکی, فلیٹس کی اصل قیمت جانے بغیر انہیں آمدن سے زائد اثاثہ قراردیا گیا۔
اپیلوں کے مطابق واجد ضیا نے تسلیم کیا بچوں کا نواز شریف کے زیر کفالت ہونے کا ثبوت نہیں ملا,عدالت نے واجد ضیا کے اس بیان کو مکمل نظر انداز کیا۔۔استغاثہ نے بھی تسلیم کیا نوازشریف کے مالک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
نواز شریف کے خلاف دیگر دو ریفرنسز دوسری عدالت میں دائر کرنے کی درخواست دائرکر دی گئی,جج ایک ریفرنس میں فیصلہ دے چکے ہیں، باقی ریفرنسز دوسری عدالت میں منتقل کر دیئے جائیں۔

یہ ویڈیو بھی دیکھیں: