ورلڈ چیمپئپن انگلینڈ کی فتح پر ایک اور سوالیہ نشان لگ گیا

ورلڈ چیمپئپن انگلینڈ کی فتح پر ایک اور سوالیہ نشان لگ گیا


لاہور(24نیوز)12ویں کرکٹ ورلڈ کپ کا تاج انگلینڈ کے سر تو سج گیا لیکن  اس سنسنی خیز فائنل میچ کے بعد انگلینڈ کی فتح پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیونکہ انگلینڈ کی کامیابی میں اوور تھرو کے 6 رن نے اہم کردار ادا کیا۔ اوور تھرو کا قانون کیا ہے اور انگلینڈ کو چھ رنز ملنے چاہئیں تھے یا پانچ؟ ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سنسنی خیز فائنل کے بعد ایک نئی بحث میدان میں آ گئی ہے کہ’ آئی سی سی سے بہتر تو گلی کرکٹ کے قواعد ہیں‘

کرکٹ کا عالمی کپ تو اتوار کی شب لارڈز کے تاریخی میدان میں اختتام پزیر ہو گیا لیکن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے سنسنی خیز میچ سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں۔ امپائروں سمیت ہر کسی کو سکور بورڈ پر دونوں کا سکور بھی ایک ہی نظر آیا لیکن ایک نے ورلڈ کپ اٹھایا اور دوسری چپ چاپ چلی گئی۔شاید یہی وجہ ہے کہ شائقین کرکٹ آسٹریلیا سے لے کر افغانستان تک اور انڈیا سے لے کر جنوبی افریقہ تک یہی دو سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں۔اوور تھرو کا قانون کیا ہے اور انگلینڈ کو چھ رنز ملنے چاہئیں تھے یا پانچ؟اگر سپر اوور کے اختتام پر سکور برابر ہو تو ایک ٹیم کو دوسری پر کیسے فاتح قرار دیا جاسکتا ہے؟

آئی سی سی کا باؤنڈری کمیشن پھر کام دکھا گیا اور انگلینڈ کو سبقت دلا دی لیکن قواعد تو قواعد ہوتے ہیں باؤنڈری فارمولا نیوزی لینڈ کی ناؤ بھی پار لگا سکتا تھا، اگر گپٹل نے بھی آرچر کو نیشام جیسا مزا چکھایا ہوتا تو واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب انگلینڈ کے بیٹسمین بین سٹوکس اور عادل رشید اپنے سپر اوور میں رن لینے کے لیے دوڑے اور نیوزی لینڈ کے فیلڈر مارٹن گپٹل کی تھرو پر دوسرا رن لیتے ہوئے بین اسٹوکس نے ڈائیو لگائی۔گیند ان کے بلے سے لگ کر باؤنڈری پر چلی گئی اور امپائر نے چھ رنز دے دیے۔

اس وقت کسی نے اس بات کا احساس نہیں کیا کہ قانون کیا کہتا ہے اور کیا بین سٹوکس کے سکور میں چھ رنز ہی دینے چاہئیں تھے۔ لیکن بعد میں اس پر ایک بحث چھڑ گئی جس میں آسٹریلیا کے سابق امپائر سائمن ٹافل اور دیگر سابق کرکٹر بھی شامل ہوگئے۔

اپنے زمانے میں دنیا کے صفِ اول کے امپائر سمجھے جانے والے آسٹریلیا کے سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ امپائروں کمار دھرماسینا اور ایرازمس سے غلطی ہوئی ہے۔ ’انھیں انگلینڈ کو چھ نہیں بلکہ پانچ رنز دینے چاہئیں تھے اور غلطی فیلڈر کے تھرو کی ٹائمنگ کی ہے۔ اوور تھرو کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب فیلڈر گیند تھرو کرنا شروع کرتا ہے۔ امپائر کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ بیٹسمین کہاں ہیں؟‘

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں امپائر غلطی پر تھے کیونکہ جب مارٹن گپٹل نے تھرو کی تھی اس وقت دونوں بیٹسمینوں نے دوسرے رن کے لیے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا اور اس صورتحال میں امپائر کو چھ کے بجائے پانچ رنز دینے چاہئیں تھے۔کرکٹ کے قوانین اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ وہی رن تسلیم کیا جاتا ہے جس میں بیٹسمینوں نے ایک دوسرے کو کراس کر لیا ہو۔

بازید خان کا کہنا ہے کہ جب قوانین کے بارے میں کوئی غیرمعمولی صورتحال سامنے آتی ہے اسی وقت قوانین کی کتاب کھول کر دیکھی جاتی ہے۔بازید خان کی طرح راشد لطیف بھی یہی کہتے ہیں کہ جب تھرو ہو رہی ہو اور اگر بیٹسمین نے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا ہو تو وہ رن نہیں ہوگا اور فائنل میں جو کچھ ہوا وہ یہی تھا لیکن اس بارے میں کرکٹ قوانین میں یہ بات واضح طور پر موجود نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ 2000ء میں ان کے ساتھ بھی تقریباً اسی طرح کی صورتحال ہوئی تھی کہ وہ بیٹنگ کررہے تھے کہ ایک تھرو ان کے بیٹ سے لگ کر باؤنڈری پر چلی گئی تھی اور امپائر نے چوکا دے دیا تھا کیونکہ وہ بیٹ دانستہ نہیں لگا تھا۔

راشد لطیف کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ بین سٹوکس نے دانستہ بیٹ نہیں لگایا جو چوکا ہوا، اگر ایسا ہوتا تو وہ یقینی طور پر آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ یعنی فیلڈ میں رخنہ اندازی پر آؤٹ دے دیے جاتے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سپر اوور میں سکور برابر ہونے کی صورت میں اس ٹیم کو سبقت حاصل ہوگی جس نے اپنی اننگز میں زیادہ باؤنڈریز لگائی ہوں۔

سوشل میڈیا پر تو اب یہ جیت ایک ایسا متنازع ٹرینڈ بن گیا جس میں آئی سی سی کے قواعد صارفین کے ہدف پر ہیں۔ایک صارف مان سنگھ نے لکھا کہ ان قوانین سے تو گلی میں کھیلی جانے والی کرکٹ کے قوائد اچھے ہیں۔زیوا شاہ کے نام سے صارف نے لکھا ہے کہ فائنل میچ کے نتیجے نے تو کرکٹ کی سپرٹ تباہ کر کے رکھ دی ہے۔

الوک کمار نامی صارف نے لکھا ہے کہ آئی سی سی کی نظر میں 100 کے پانچ نوٹ پانچ سو کے ایک نوٹ سے بہتر ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer