شرح سود میں اضافہ، حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے

شرح سود میں اضافہ، حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے


کراچی(24 نیوز) اسٹیٹ بینک کی طرف سےشرح سود میں اضافےسے جہاں عوام متاثرہورہےوہیں حکومت کوبھی زیادہ سودکی ادائیگی کی مدمیں لینے کے دینےپڑگئےہیں۔

 روپے کی مسلسل بے قدری اور شرح سود میں مسلسل اضافے سے عوام کے لیے تو مہنگائی میں اضافہ ہو ہی رہا ہےخود حکومت کو بھی اس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ کیونکہ بینکوں سے سب سے زیادہ قرض حکومت ہی لے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اب تک بنیادی شرح سود میں 575 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے باعث سال کے دوران حکومت کو صرف مقامی قرضوں پر پہلے کے مقابلے میں 70 فیصد تک زیادہ سود ادا کرنا پڑا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران نجی شعبے نے بینکوں سے مجموعی طور پر 682 ارب روپے کے نئے قرضے لیے تھے جبکہ حکومت کے نئے قرضوں کا حجم 2 ہزار 2 سو ارب روپے تھا۔

 اقتصادی ماہرین کے مطابق بینکوں سے مہنگا قرض ملنے سے صنعتی اور کاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گئی، جس کے نتیجے مہنگائی کے علاوہ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مہنگے قرض سے تعمیراتی اور آٹو سیکٹر بھی بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔نئے گھروں کی تعمیر اور گاڑیوں کی خریداری میں کمی ہو سکتی ہے۔