ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت، قطری شہزادے کے اصل خط عدالت میں پیش


اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیر اعظم نوازشریف اورمریم نوازاسلام احتساب عدالت پہنچ گئے،شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت ہوگی، جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءبیان جاری رکھیں گے،واجد ضیاءکل بیان مکمل نہیں کرسکے تھے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کریں گے، عدالت نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی مریم نواز کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی تھی۔
یاد رہے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے،نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:مجھ پر کوئی جوتا اچھالنا چاہتا ہے تو اچھال دے، عمران خان کا اعلان
دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 اف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے،نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔

آج سماعت کے دوران واجد ضیاء نے بیان ریکارڈ کرانے سے پہلے دوبارہ سچ بولنے کا حلف لیا اور سپریم کورٹ کو بھجوایا گیا قطری شہزادے حمد بن جاسم کا اصل خط احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ خط کو ریکارڈ پر لانے کے لیے کوئی درخواست دے رہے ہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ جائزہ لے رہے ہیں، درخواست دے کر خط کو ریکاڈ پر لانے کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔

سماعت کے دوران واجد ضیاء نے حدیبیہ پیپر ملزکے ڈائریکٹر کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔جس پر مریم نواز کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ یہ غیر متعلقہ اور ناقابل تسلیم رپورٹ ہے جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پیش کی گئی دستاویزات فوٹوکاپی سے کاپی کرائی گئی اور تصدیق شدہ بھی نہیں۔

واجد ضیاء نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع متفرق درخواستوں کے ساتھ بھی یہ موجود تھی۔سماعت کے دوران لندن فلیٹس اور نیسکول کمپنی کی لینڈ رجسٹری بھی عدالت میں پیش کی گئی، جسے ریکارڈ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا,واجد ضیاء نے التوفیق کمپنی اور حدیبیہ پیپر ملز میں باہمی معاہدے کا مسودہ اور کومبر کمپنی کی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کیں۔

تاہم ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اعتراض کیا کہ یہ ڈرافٹ قانون شہادت پر پورا نہیں اترتا جبکہ کومبر کمپنی کی دستاویزات بھی غیر متعلقہ ہیں۔

کیس کی سماعت کے بعدسابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کون ہے یہ سنجرانی ؟ چھ لوگوں کے گروپ نے اسے نامزد کردیا اور وہ آتے ہی چیئرمین سینیٹ بن گیا لیکن ان کے پیچھے جو ہیں وہ سب کو پتا ہے۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہمارے آئندہ الیکشن کے منشورکا حصہ ہوں گی، اصلاحات قوم اور وقت کی ضرورت ہیں، اصلاحات کا دروازہ ہر وقت کھلا رہنا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:حسین حقانی کی عیاشی کے دن ختم،ایف آئی اے نے بڑا قدم اٹھا لیا

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک عدل کے لیے کسی انٹرنیشنل فرم کی خدمات نہیں لیں، اس کے لیے ہمارے پاس اپنا مواد بہت ہے اور ہم کوئی نیب تو نہیں ہیں جو عالمی فرم کی خدمات لیں۔

انہوں نے کہا کہ عام حالات میں بہت ساری چیزیں سامنے نہیں آتیں، امتحان کے دور میں بہت ساری چیزیں واضح ہوجاتی ہیں، مجھے مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ 

سابق وزیراعظم نے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کی سیاست کا مقصد صرف عوام کو دھوکا دینا ہے، یہ ہر وقت امپائر کی انگلی کی طرف دیکھتے ہیں، یہ ہمیشہ سے چور دروازے سے آنے کے خواہش مند ہیں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ نوبت یہ آگئی ہے کہ سو دو سو لوگوں کے جلسے کررہے ہیں، اور کریں اتحاد، اور بنوائیں سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ، کون ہے یہ سنجرانی ؟ چھ لوگوں کے گروپ نے اسے نامزد کردیا اور وہ آتے ہی چیئرمین سینیٹ بن گیا، ان کے پیچھے جو ہیں وہ سب کو پتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک منتخب صوبائی حکومت کو ہٹادیا گیا، شفاف انتخابات کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ہرانا تھا تو اپنے زور سے ہراتے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں