سیاستدانوں پر جوتے کیوں اچھالے جارہے ہیں؟اصل وجہ سامنے آگئی

سیاستدانوں پر جوتے کیوں اچھالے جارہے ہیں؟اصل وجہ سامنے آگئی


تحریر: وقار نیازی

پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں میں عدم برداشت روز بروز برھتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک پاکستان میں ہر خاص و عام کی اکثریت عدم برداشت کی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ لوگ معمولی سی بات پر آپے سے باہر آجاتے ہیں، ہر شخص ایک دوسرے کو معاف کرنے کی بجائے کھانے کو دوڑتا ہے۔

سیاسی، مذہبی رہنما ملک میں عدم برداشت کے خاتمے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیوں کہ کسی حد تک یہ  ناسور انہی کا پیدا کردہ ہے ۔ ہمارے ملک کے لوگ خود سے زیادہ اپنے رہنماؤں کی بات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا اثر قبول کرتے ہیں، ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ اس کے لیے  سب سے پہلے مذہبی رہنماؤں کو مناسب اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کو طے کرنا ہوگا کہ مخالف مکتبہ و فکر کی کیا حد طے کرنی ہے۔ ہمارے پیارے عزیز وطن پر ناجانے کتنے لوگ مذہبی عدم برداشت کی نذر قربان ہوگئے، اس کی مثال حال میں ہی مشال خان قتل کیس اور سلمان تاثیر کے قتل میں ملتی ہے کہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو موت کے گھاٹ میں اتار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت، قطری شہزادے کے اصل خط عدالت میں پیش

دوسرا اہم کردار ہماری سیا سی پارٹیوں کا ہوسکتا ہے، سیاسی پارٹیوں کا دوسری پارٹیوں کے خلاف نعرے بازی ، انکے خلاف جلسوں میں غلط الفاظ کا استعمال کرنا ان کے پیروکاروں کا بٹوارا کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسے ہوں یا الیکشن سیاسی پارٹیوں کے کارکن آپے سے باہر آکر ایک دوسرے کو کاٹنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہوا کہ سیاسی عدم برداشت کی لگائی گئی آگ آج سیاستدانوں کوخود بھگتنا پڑ رہی ہے۔ آج کل چونکہ جوتے کا بہت زیادہ تذکرہ ہورہا ہے تو کیوں نہ تھوڑی سی بات جوتے کی تاریخ کے بارے میں ہی کرلیتے ہیں۔ گزشتہ دہائی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے ارباب غلام رحیم جوتے کا نشانہ بنے۔ اس کے بعد تو جیسے جوتا مارنا ثواب کا کام سمجھنے جانے لگا۔ جی ہاں بھارتی ہوم منسٹر چدم برم، بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، سابق صدر پرویز مشرف، ہیلری کلنٹن، شیخ رشید، احسن اقبال ، اور حال میں ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے علیم خان سیاسی عدم برداشت کا نشانہ بنتے ہوئے جوتا کلب ممبرز کا حصہ بن گئے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کارکنوں میں سیاسی عدم برداشت کی آگ بھڑکانے والے یہ خود سیاسی حکمران ہیں۔

عدم برداشت کی ایک وجہ معاشی بدحالی بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے افراد کی اکثریت ذہنی دباو میں رہتی ہے، جس سے انسانی رویوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے۔ اس روایت کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو ہر فورم پر عوام کو ترجیح دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:سپرلیگ،ملتانیوں نے لاہور قلندرز کی جیت کیلئے مصلے بچھالیے

ہمیں انفرادی طور ہر بھی خود کو تربیت دینا ہوگی۔  میانہ روی، تحمل ، رواداری، تحمل مزاجی، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کرنا، انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں، جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و امان کا دور دورہ ہو جائے گا۔ ہمیں یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا ہوگی کہ عدم برداشت ہمارے نفسیات، جسم، روح، معاشرت، معاش، تعلقات کے لیے تباہی وبربادی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی، اگر کسی سے غلطی سر زد ہوجاتی ہے اور وہ اس پر شرمندگی محسوس کرتا ہے تو اسے کھلے دل سے معاف کرنا چاہیے، کیوں کہ معاف کرنا پیغمبروں کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اسلام تو غیر مسلموں کے ساتھ بھی بھلائی اور معاف کرنے کا حکم دیتا ہے پھر کیوں ہمارا دیس مذہبی عدم برداشت کی آگ میں جل رہا ہے۔ حالانکہ اعتدال پسندی اور رواداری ہمارے مذہب اسلام کی بہترین صفت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سب کو رانی مکھر جی کی ”ہچکی“کا شدت سے انتظار

عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے اسباب جھوٹ، ناانصافی، چوری، مہنگائی، بے روزگاری، میرٹ کی خلاف ورزیاں ،سیاسی بگاڑ، معاشرتی بگاڑ، طبقاتی بگاڑ، علاقائی بگاڑ اور گھریلو بگاڑ، میڈیا پر نشر ہونے والے پر تشدد پروگرامز اور فلمیں ہیں۔  ان تمام اسباب کے معاشرے میں منفی اثرات سامنے آرہے ہیں۔