سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کی انٹرپول کے ذریعہ گرفتاری کا حکم


اسلام آباد (24 نیوز) صابق صدر پرویز مشرف کے خلاف بے شمار مقدمات درج ہیں۔ جس بنا پر وہ پاکستان میں تھے تو ان کو گھر میں نظر بند رکھا گیا لیکن بعد ازاں وہ بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک چلے گئے۔


ان کے بیرون ملک جانے کے لیے سب سے زیادہ سپورٹ ان کو موجودہ حکومت نے کی۔ عدالت نے ان تمام مقدمات میں ان کو بارہا طلب کیا لیکن وہ نہ آئے۔ بالآخر عدالت نے ان کو مفرور بھی قرار دیا۔ مقدمات کی نوعیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عدالت نے نیا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں غیر رجسٹر، ایف بی آر کا انکشاف 

خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویزمشرف کے خلاف کیس کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کو انٹرپول کے ذریعہ گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔ پرویز مشرف کی بیرون ملک تمام جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ مشرف اپنی واپسی کا جواب نہ دیں تو انٹرپول کے ذریعہ گرفتار کر کے واپس لایا جائے۔ وزارت داخلہ مشرف کا پاسپورٹ، شناختی کارڈ معطل کرسکتی ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل کو سات روز میں پرویزمشرف کی سکیورٹی کے لیے درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ضرور پڑھئے: ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت، قطری شہزادے کے اصل خط عدالت میں پیش 

دوسری جانب سے سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرویزمشرف نے سکیورٹی کے لیے حکومت کو درخواست دے دی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے پاکستان آنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی کے لیے حکومت کو درخواست بھی دے دی ہوئی ہے جو 13 مارچ کو وزارتِ داخلہ اور وزاتِ دفاع کو موصول ہوئی۔

قبل ازیں اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں 8 مارچ کو ان کے خلاف سنگین غداری کی سماعت ہوئی تھی۔ اس موقع پر ان کے وکیل نے کہا تھا کہ پرویز مشرف عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی ضرور ہے۔ جس پر عدالت نے پیش ہونے تک سکیورٹی بحال نہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

پڑھنا نہ بھولئے: تحریک انصاف کا کلثوم نواز، اسحاق ڈار کے استعفوں کا مطالبہ 

ذرائع کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق صدر پاکستان واپس آ کر عدالتوں کا سامنا کرتے ہیں یا اب بھی ٹھنگا دکھا دیں گے۔ اگر وہ اب بھی پیش نہ ہوئے تو عدالتی حکم کے مطابق ان کو انٹر پول کے ذریعہ گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کی آنے کے حوالے یقین دہانی کے بعد وزارت داخلہ نے پیش قدمی روک رکھی ہے۔