نیوزی لینڈ ،مساجد پر فائرنگ کے واقعہ میں اہم پیشرفت


ویلنگٹن(24نیوز) وزیراعظم نیوزی لینڈ نے کہاکہ مساجد میں فائرنگ کاواقعہ انتہائی افسوسناک ہےاور نیوزی لینڈ کی  تاریخ کا بدترین واقعہ تھا،ہماری پہلی ترجیح جاں بحق افراد کی شناخت تھی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہناتھاکہ حملہ آور آسڑیلیا کا شہری اور نیوزی لینڈ آتا جاتا رہتا تھا،تحقیقات کے سلسلے میں آسٹریلیا سےمسلسل رابطے میں ہیں،حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی،پولیس نے 36منٹ بعد ملزم کو گرفتار کرلیا،ہماری پہلی ترجیح جاں بحق افراد کی شناخت تھی،ان کاکہناتھاکہ نیوزی لینڈ میں اسلحہ قوانین تبدیل کئے جائیں گے،متاثرہ کمیونٹی کی ہرممکن مدد  اورمتاثرین کی مالی امداد کی جائے گی۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو 5 اپریل تک ریمانڈ پر دے دیا گیا،دائیں بازو کا سفید فام نسل پرست 28 سالہ برینٹن ٹیرینٹ آسٹریلوی شہری ہے، ملزم کو آج ہتھکڑی لگا کر کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیا گیا, عدالت میں پیشی کے موقع پر باہر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے جبکہ سیکورٹی وجوہات کے باعث سماعت بند کمرے میں کی گئی، کیس کی سماعت کے دوران ایک مشتعل شخص نے چاقو لے کر عدالت میں گھسنے کی کوشش کی تاہم داخلے پر پابندی کے سبب چاقو بردار شخص عدالت میں داخل نہ ہوسکا۔

پولیس کے مطابق 28 سالہ مبینہ حملہ آور پر فی الحال قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے، دیگر الزامات بعد میں لگیں گے، حملہ آور کی جانب سے ضمانت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی،واقعے کے بعد نیوزی لینڈ بھر میں پولیس کاگشت بڑھا دیا گیا ہے، مساجد کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے جبکہبنگلہ دیش کرکٹ ٹیم بھی نیوزی لینڈ سے وطن روانہ ہوگئی ، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم گزشتہ روز کرائسٹ چرچ فائرنگ کے واقعہ میں بال بال بچی تھی بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ کرائسٹ چرچ میں آج شروع ہونا تھا جسے فائرنگ کے واقعے کے بعد منسوخ کر دیا گیا ۔

واضح رہے گزشتہ روز ایک جنونی شخص نے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے49 افراد کو شہید کو متعدد زخمی کردیا تھا۔