سانحہ نیوزی لینڈ کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم

سانحہ نیوزی لینڈ کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم


لندن(24نیوز) نیوزی لینڈ حملے کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ہٹایا جانے لگا،برطانوی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہشدت پسندی پر مبنی ویڈیو اپنے پیلٹ فارم سے ہٹائیں یا قانونی کارروائی کےلیے تیار رہیں۔

ضرور پڑھیں:جگن@22,9نومبر 2019

تفصیلات کےمطابق برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے نیوزی لینڈ حملے کی ویڈیو زسے متعلق سوشل میڈیا کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ شدت پسندی پر مبنی ویڈیو اپنے پیلٹ فارم سے ہٹائیں یا قانونی کارروائی کےلیے تیار رہیں،انہوں نےمسلمانوں پر ہونے والے دہشت گردی کے وحشیانہ حملے اور نمازیوں کے بے دریغ قتل عام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو وارننگ جاری کی کہ وہ جلدازجلد ان کو ڈیلیٹ کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے شدت پسندانہ پیغامات سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نشر ہونے سے روکنے کےلیے مزید کام کرنا ہوگا،کرائسٹ چرچ میں واقع مساجد میں حملے کی ویڈیو 17 منٹ تک فیس بُک پر لائیو نشر ہوئی ہے،سوشل میڈیا سے اصلی ویڈیو ہٹانے کے باوجود ویڈیو یوٹیوب، ٹوئٹر سمیت کئی جگہوں پر وائرل ہوچکی ہے،انہوں نےعوام پر زور دیا کہ ’وہ بیمار اور پاگل پن پر مبنی ویڈیو نہ دیکھیں یہ غلط اور غیر قانونی ہے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ آن لائن پیلٹ فارمز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردوں اور دہشت گردی کے کام نہ آئیں، نیوزی لینڈ میں دہشت گرد نے اپنے شدت پسندانہ نظریات پھیلانے کےلیے بے گناہوں کے قتل عام کی ویڈیو نشر کی۔