جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے گردےفیل ہونے کا خدشہ

جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے گردےفیل ہونے کا خدشہ


لاہور (24 نیوز) معروف یورپی یورالوجسٹ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق تازہ ترین تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں یورک ایسڈ بڑھ جانے سے مریضوں میں گردے فیل ہوجانے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ماہرِ امراض گردہ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کا کہنا ہے کہ جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا میٹابولک سینڈروم کا ایک حصہ ہے، جس کے نتیجے میں دل اور فالج کے حملے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کا مزید کہنا ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق یہ کیمیکل نہ صرف گردے ناکارہ کرنے، بلند فشار خون کا مرض لاحق کرنے بلکہ دل کے دورے اور فالج کے حملے کا بھی اہم سبب بنتا ہے۔

واضح رہے کہ شراب پینے، سرخ گوشت کھانے، لوبیا اور کچھ دالوں کے کھانے سے جسم میں یورک ایسڈ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان غذاؤں کا کم سے کم استعمال آپ کو  کئی موذی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔