ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کو8برس مکمل

ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کو8برس مکمل


لندن(24نیوز) برطانیہ میں ڈاکٹرعمران فاروق کوقتل ہوئے8برس مکمل ہوگئے، دونوں ممالک کی پولیس کے درمیان معلومات اور ثبوتوں کے تبادلے پرڈیڈلاک آج بھی برقرارہے جوکیس کے منطقی انجام میں بڑی رکاوٹ ہے۔
سولہ ستمبر 2010 ،  شمالی لندن کی تاریخ کا وہ دن جب ایم کیو ایم کے سرگرم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو دواجرتی قاتلوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ پتہ چلا کہ قتل پاکستان سے آئے دو ملزموں محسن علی سید اور کاشف خان کامران نے کیا ۔مرکزی ملزم سید محسن علی کے ساتھ سہولت کار خالد شمیم کی پاک افغان سرحدی علاقے چمن سے گرفتاری ہوئی جبکہ ایک اور سہولت کار معظم علی کو کراچی سے پکڑا گیا۔
سکارٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے دومرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور انہیں گرفتار ملزموں تک رسائی بھی دی گئی لیکن ثبوتوں کے تبادلے اور ملزموں کی حوالگی پر معاملہ لٹک گیا۔عدالت نےقائد ایم کیو ایم ، محمد انور اور افتخار حسین کو اشتہاری ملزم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کا باقاعدہ آغازکیا  اور 15 میں سے 10 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور اب صرف تین گواہ باقی ہیں۔
چونکہ وقوعہ برطانیہ میں ہوا اس لئے قتل کے ثبوت پاکستان میں نہیں، نہ ہی برطانیہ نے ثبوتوں کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے، قوی امکان ہے کہ شاید تینوں ملزم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں ۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔