سندھ واٹرکمیشن نے نئی پابندی عائد کردی

سندھ واٹرکمیشن نے نئی پابندی عائد کردی


کراچی(24نیوز) سندھ واٹرکمیشن نے کراچی میں نالوں کی صفائی نہ ہونے پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے نالوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

 کمیشن کا حکم  کے مطابق ہر گھر میں پانی پہنچانا حکومت کی زمہ داری ہے جہاں لائنوں میں پانی نہیں آتا وہاں انتظامیہ سرکاری خرچ پر ٹینکرز پہنچائے۔  سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن کی۔ سماعت ہوئی۔ کمیشن نے کراچی کے عوامی ٹینکوں میں پانی کی سپلائی بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ واٹرکمیشن نےحیدرآباد کی تمام ہاؤسنگ اسکیموں کی مزید منظوری پرپابندی لگادی۔ کمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ واٹر بورڈ اگر اپنا کام درست طریقے سے کریں تو شہریوں کو پانی کی پریشانی نہ ہوگی۔کمیشن نے نالوں کی صفائی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزات میں نالے صاف بتائے جاتے ہے مگر حقیقت میں گندگی کے ڈھیر کے علاوہ کچھ نہیں۔

دوران سماعت پروجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ لوگ مسلسل کچرا پھینک رہے ہیں جس کی وجہ سے گندگی ہے۔ کمیشن کے سربراہ نے ریماکس دہیے کہ اگر یہی مستقبل ہے تو شہریوں کو اسی حال میں چھوڑ دیں۔ کمیشن کے سربراہ نے مئیر کراچی اور سیکریٹری بلدیات کو نالوں کی صفائی کا کام تیزی سے کرنے کی ہدایت کردی سیکریٹری بلدیات نے پانی چوری کے حوالے سے اعتراف کیا کہ شہر میں پانی چوری ہورہا ہے زیر زمین پانی نکالنے کے حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔

 کمیشن کے سربراہ نے حیدرآباد کی تمام ہائوسنگ اسکیموں کی اجازت نامہ کو منسوخ کرتے ہوئے مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی۔

احمد علی کیف

Urdu Content Lead