نیپرا نے کراچی میں بجلی بحران کی وجہ بتا دی

نیپرا نے کراچی میں بجلی بحران کی وجہ بتا دی


کراچی (24نیوز) کراچی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے نیپرا کی ہدایات ماننے سے انکار کر دیا۔

ذرائع پاور ڈوژن کے مطابق سوئی سدرن کمپنی نے کے الیکٹرک کو اضافی گیس دینے سے انکار کر دیا۔ سوئی سدرن کمپنی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو گیس دینا ہماری ترجیحی فہرست میں نہیں، کے الیکٹرک کے ساتھ اضافی گیس سپلائی کا کوئی معاہدہ نہیں۔ معاہدہ ہو بھی گیا تو کے الیکٹرک آخری ترجیح ہوگی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کی پہلی ترجیح گھریلو صارفین ہیں۔ کمپنی کو یومیہ 25 کروڑ کیوبک فٹ گیس شارٹ فال کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کراچی والوں کی سن لی،لوڈشیڈنگ کا نوٹس 

کے الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی سے سی این جی سیکٹر کو بند کرنا پڑے گا۔ کراچی میں تین دن سی این جی اسٹیشنز اور ایک دن انڈسٹری کو گیس کی بندش کی جا رہی ہے۔روشنیوں کے شہر میں بجلی کا بحران شدید ہونے کی وجہ سے نظام زندگی بھی خاصی حد تک متاثر ہوا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس کی اصل وجہ سے پردہ اٹھا دیا۔

کراچی میں بجلی کے شدید بحران کے بعد شہریوں نے جگہ جگہ احتجاج کیے اور گلی گلی مظاہرے کیے گئے جس کے بعد نیپرا نے ایکشن لیا۔ نیپرا کی ٹیم کی گیارہ سے تیرہ اپریل تک کراچی کے دورہ پر گئی جس دوران گرڈ اسٹیشنوں اور پاور پلانٹوں کا معائنہ کیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ شہریوں سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔

ضرور پڑھیں: 6 سالہ بچی کا زیادتی کے بعد قتل، احتجاج میں 1شخص جاں بحق، 12زخمی

جاری کردہ اعلامیہ میں نیپرا نے ایس ایس جی سی کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دینے کی سفارش کی ہے۔ نیپرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک نے اب تک غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔نیپرا کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے بجلی کا بحران شدید ہو گیا۔ کے الیکٹرک کے پاس کورنگی اور بن قاسم پاور پلانٹس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں: سندھ واٹرکمیشن نے نئی پابندی کا علان کر دیا 

نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک نے ان پاور پلانٹس سے بجلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کے الیکٹرک ان پاور پلانٹس سے 350 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے۔

مزید اس ویڈیو میں دیکھیں: 

احمد علی کیف

Urdu Content Lead