نجی سکولوں کی فیسوں کا معاملہ؛سارا قصور انگریزی کا ہے: چیف جسٹس

 نجی سکولوں کی فیسوں کا معاملہ؛سارا قصور انگریزی کا ہے: چیف جسٹس


اسلام آباد( 24نیوزسپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے لاہور ہائیکورٹ فیصلے میں بہت سی غلطیاں ہیں،لگتا ہے سارا قصور انگریزی کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس   آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی سکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل دیے،جسٹس اعجاز ااحسن نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہو ا ہے،ہائیکورٹ نے ایک جملے میں کہا کہ سکول فیسوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور دوسرے جملے میں ہی کہہ دیا کہ فیسوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی طور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیسوں میں اضافے سے صرف دو فیصد بچے متاثر ہونے کے باعث اضافہ نہیں ہو سکتا جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہائیکورٹ کہتی دو فیصد بچے متاثر ہونے کے باعث فیسوں کے اضافے میں فرق نہیں پڑتا، چیف جسٹس نے مزید کہا رمضان میں حکومت اشیاء خوردونوش کی قیمتیں مقرر کرتی ہے،اگر قیمتوں کا کنٹرول جائز قرار دیا تو پھر وکیلوں کی فیسوں پر بھی اصول لاگو ہو سکتا ہے اور اگر قیمتوں کا کنٹرول ناجائز قرار دیا تو پھر اشیاء خوردونوش بھی کنٹرول نہیں ہو سکیں گئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے لاہور ہائیکورٹ فیصلے میں بہت سی غلطیاں ہیں لگتا ہے سارا قصور انگریزی کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانونی طور پر فیسوں میں اضافہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے، چیف جسٹس بولے فیصلے میں آ رٹیکل 10 اے کا بھی ذکر ہے،آرٹیکل 10 اے کا اطلاق صرف ٹرائل کیلئے ہوتا ہے ہر جگہ نہیں ہوتا،فیس میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ لائسنس کی تجدید کے وقت ہوگا، نجی سکولوں کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2020 میں گیس کی قیمت 80 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا گیس کی قیمت بڑھنے سے سکول فیس میں 80 فیصد اضافہ نہیں ہوتا، مخدوم علی خان نے کہا افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ فیصد سے زیادہ اضافے کی اجازت ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے نجی سکولز کو فیس میں اضافے کا لامحدود اختیار نہیں دے سکتے، چیف جسٹس بولے قانون میں سقم ہے تو پارلیمنٹ سے تبدیل کروا لیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا فیس میں اضافے کی شرح کم سے کم ہونی چاہیے،پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو مجاز اتھارٹی کو جواز پیش کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ والدین کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا, ایسی صورتحال میں والدین پر اتنا بوجھ کیسے ڈالا جا سکتا ہے,عدالت اسی بات پر غور کر رہی ہے کہ ان حالات میں معقولیت کیا ہوگی, اگر ایک سکول پانچ سال بعد سٹرکچر تبدیل کرنا چاہے تو اس کے لیے کیا ضروریات ہیں؟بظاہر ان قوانین کے پیچھے ایک سکیم موجود ہے جسے ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں.

جسٹس اعجاز الاحسن بولے کہ تین سال تک 8 فیصد سالانہ کے حساب سے 24 فیصد اضافہ ممکن ہے،تین سال بعد مزید اضافہ کے لیے اتھارٹی کو مطمئن کریں،آپ کی یہ دلیل کہ نجی سکول پانچ فیصد اضافہ کے پابند ہیں ٹھیک نہیں ہے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER