عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب

عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب


اسلام آباد(24نیوز) عمران خان ملک کے بائیسویں  وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ عمران خان کو 176 ووٹ ملے جبکہ شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر اسد قیصر نے کی، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان اور مسلم لیگ ن کے شہباز شریف مدمقابل تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت اسمبلی کا اجلاس  ہوااور اسپیکر اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق آگاہ کیاگیا۔اسپیکر نے  ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا انھوں نے اراکین کو ہدایت کی کہ جو اراکین عمران خان کے حق میں ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں تو اسپیکر کے دائیں جانب"لابی اے" میں جائیں اور جو شہبازشریف کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں وہ اسپیکر کے بائیں جانب "لابی بی" میں چلے جائیں جس کے بعد اراکین اپنی اپنی لابی میں چلے گئے۔پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی اپنی سیٹوں پربیٹھے رہے اور ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ایوان میں  مجموعی طور پر 55 ارکان نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں رائے شماری کا عمل مکمل ہوگیا ہے جس کے بعد اب گنتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

سترہ اگست دوہز ار اٹھار، قومی اسمبلی اپنے لئے نیا قائد ایوان اور ملک کے لئے نیا وزیر اعظم کا چناؤ کیا ۔اس اجلاس میں شہباز شریف کے حمایتی ایک لابی تھے جبکہ عمران خان کے حمایتی ایک لابی میں تھے۔ 

عمران خان ، شہباز شریف ، بلاول بھٹو سمیت دیگر لیگی اراکین قومی اسمبلی پہنچے ۔ ایوان میں شہباز شریف نے عمران خان اور بلاول بھٹو سے مصافحہ بھی کیا ۔ 

عمران خان کی میڈیا سے گفتگو: 

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،  عمران خان پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرینگے جبکہ عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کرینگے۔اس موقع پر عمران خان نے صحافی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا، میچ جاری ہے، خواب ابھی پورا نہیں ہوا، ایک مرحلہ پورا ہوا۔انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق کہا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد نام سامنے لایا جائے گا۔

ضرور پڑھیں:غداری سے بچ گئے

بلاول بھٹو کی گفتگو: 

بلاول بھٹو زرداری ایوان میں پہنچ گئے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  پیپلزپارٹی ایوان میں رہ کر انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو زرداری بھی بلاول کے ہمراہ پارلیمنٹ پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت کے لئے کام کرتا رہوں گا۔

شہباز شریف کی گفتگو: 

شہباز شریف ن لیگ کے اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو ٹوئنٹی فور نیوز کے نمائندے نے ان سے سوال کیا کہ آصف زرداری صاحب آپ کو ووٹ دیں گے؟جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ زرداری صاحب سے ہی پوچھیں.ایک اور  صحافی نے ان سے سوال کیا کہ  کیا آپ سنچری مکمل کر لیں گے؟ اس پر (ن) لیگ کے صدر نے کہا کہ ‫جب میچ فکس ہو پھر سنچری کیسے بنائی جا سکتی ہے؟ 

کارکنوں کے نعرے:

پریس گیلری پر بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے دھاوا بول دیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی صحافیوں سے ہاتھا پائی کی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے پانچوں دروازوں پر "چور آیا ""چور آیا" کے نعرے لگ گئے۔

وزیر اعظم کیلئے کس کا پلڑا بھاری؟ 

کون بنے گا ملک کا نیا وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب نے صورت حال مزید واضح کرد ی۔دوسری طرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں وزارت عظمی کے امیدوار کے لئے تناؤ نے تحریک انصاف کے راہ اور بھی ہموار کر دی ۔

اسمبلی میں ارکان کے حساب سے صورت حال کیا ہے ، ایوان زیریں میں پاکستان تحریک انصاف کل 151 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی 7،بلوچستان عوامی پارٹی کی 5 ،بی این پی مینگل کی بھی5مسلم لیگ ق کی 3 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی بھی 3 نشتیں ہیں، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی قومی اسمبلی میں ایک ایک نشست ہے۔  این اے 272 سے محمد اسلم بھوتانی نے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس سے تحریک انصاف کے کل ووٹ 177 بنتے ہیں۔
اپوزیشن کی نشستوں کو دیکھیں تومسلم لیگ ن اوردیگرجماعتوں کی کل 151 نشستیں بنتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی میں کل 81 اورپیپلز پارٹی کی 54 نشستیں ہیں، متحدہ مجلس عمل کی 15 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی ایک نشست ہے۔فاٹا کے دو ارکان قومی اسمبلی علی وزیراور محسن داوڑ اوراین اے 218 سے علی نواز شاہ نے ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وزیراعظم کیلیے وہ اپنا ووٹ کسے دیں گے؟ وزرات عظمی کا انتخاب نہ صرف ایوان کو نیا قائد دے گا بلکہ اپوزیشن کے درمیان رشتوں کا بھی تعین کرے گا۔

پیپلزپارٹی کی شہباز شریف سے مخالفت: 

وزیراعظم کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن تقسیم ہوگئی۔  دونوں بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی راہیں جدا ہوگئیں۔پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے عہدے کیلئے شہبازشریف کی حمایت نہ کرنےکا فیصلہ کرلیا ہے، پیپلزپارٹی وزیراعظم کےانتخابی عمل کاحصہ نہیں بنے گی۔یہ فیصلہ اسلام آباد زرادری ہاوس میں سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی زیرصدارت ہونے والےپیپلزپارٹی کےمشاورتی اجلاس میں کیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کیسے وزیر اعظم بن رہے ہیں؟
مسلم لیگ ن کا موقف ہےکہ شہبازشریف ہی وزیراعظم کے امیدوار ہیں،شہبازشریف کے انتخاب ہارنے کی صورت میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کا ہوگا۔ قومی اسمبلی میں پوزیشن کی تقسیم کے بعد تحریک انصاف کے امیدوار عمران خان کا واضح اکثریت سے وزیر اعظم بننے کا امکان ہے۔

کب، کون وزیراعظم رہا:  

وزیر اعظم  کا عہدہ قیام  پاکستان  کے بعد ہندوستان آزادی ایکٹ 1947 کے تحت تخلیق کیا گیا.  پاکستان  کے پہلے  وزیر اعظم  لیاقت علی خان 4 سال سے بھی کم مدت تک عہدے پر رہے. وہ 15 اگست 1947 کو منتخب ہوئے، اور 16 اکتوبر 1951 تک اپنے قتل تک عہدے پر رہے۔لیاقت علی خان کے بعد 1951 سے 1958 کے مختصر دورانیے میں  وزیر اعظم  کا عہدہ میوزیکل چیئر بنا رہا، اور مختصر مدت میں 6 وزرائے اعظم عہدوں پر رہے، تاہم 1958 میں عہدے کو صدر  پاکستان  اسکندر مرزا نے ختم کردیا۔  پاکستان  پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو 14 اگست 1973 سے 5 جولائی 1977 تک  وزیر اعظم  رہے، اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی  وزیر اعظم  کا عہدہ ختم کردیا، جو1985 میں بحال کیا گیا۔
محمد علی جونیجو ملک کے دسویں وزیراعظم تھے، وہ 23 مارچ 1985 سے 29 مئی 1988 تک اس عہدے پر رہے۔ بے نظیر بھٹو ملک کی گیارہویں اور نہ صرف  پاکستان  بلکہ اسلامی دنیا کی بھی پہلی خاتون  وزیر اعظم  بنیں. وہ اس عہدے پر 2 دسمبر 1988 سے 6 اگست 1990 تک رہیں۔بارہویں  وزیر اعظم  غلام مصطفیٰ خان جتوئی 6 اگست 1990 سے 6 نومبر 1990 تک ملک کے نگراں  وزیر اعظم  رہے۔نواز شریف پہلی بار 6 نومبر 1990 کو ملک کے 13 ویں  وزیر اعظم  بنے، وہ اس عہدے پر 18 اپریل 1993 تک رہے۔ حکومت برطرفی اور بحالی کے عرصہ کے دوران میر بخش شیر مزاری ملک کے 14  وزیر اعظم  بنے لیکن نواز حکومت 26 مئی 1993 کو بحالی ہوئی اور نواز شریف 8 جولائی 1993 تک  وزیر اعظم  رہے۔

معین قریشی 8 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993 تک  وزیر اعظم  رہے، جس کے بعد ایک بار پھر بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996 تک وزیراعظم رہیں۔ملک معراج خالد 1996 سے 17 فروری 1997 تک  وزیر اعظم  رہے، جس کے بعد ایک بار پھر نواز شریف اس عہدے پر براجمان رہے، وہ 17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک اس عہدے پر رہے، یہ ان کی دوسری مدت تھی۔پرویز مشرف کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے باعث ایک بار پھر ملک غیر اعلانیہ طور پر تین سال تک ملک  وزیر اعظم  کے بغیر چلا۔ پھر میر ظفراللہ جمالی کو ملک کے 20 ویں  وزیر اعظم  کے طور پر 23 نومبر 2002 کو منتخب کیا گیا، وہ 26 جون 2004 تک اس عہدے پر رہے۔ملک کے 21 ویں  وزیر اعظم  چوہدری شجاعت حسین 30 جون 2004 سے 26 اگست 2004 تک قریبا 57 دن تک وزیراعظم رہے۔
شوکت عزیز 28 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007 تک ملک کے 22 ویں  وزیر اعظم  رہے، جس کے بعد ملک کا 23 واں  وزیر اعظم  میاں محمد سومرو کو بنایا گیا، وہ 16 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008 تک نگراں  وزیر اعظم  کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ پاکستان  کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے آئینی مدت پوری کی تھی، تاہم اسے مدت پوری کرنے کے لیے ایک سے زائد وزرائے اعظم پر گزارا کرنا پڑا، یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008 سے 25 اپریل 2012 تک آئینی  وزیر اعظم  رہے۔ یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں جون 2012 میں نااہل قرار دیا۔راجا پرویز اشرف ملک کے 25 ویں  وزیر اعظم  تھے، جو 22 جون 2012 سے 24 مارچ 2013 تک اس عہدے پر رہے، جس کے بعد میر ہزار خان کھوسو کو نگراں  وزیر اعظم  کے طور پر 25 مارچ سے 5 جون 2013 تک عہدہ دیا گیا۔
نواز شریف وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے 70 سال میں تین بار وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کی، تاہم تینوں بار وہ اپنی مدت پوری نہ کرسکے، تیسری بار وہ 5 جون 2013 کو  وزیر اعظم  منتخب ہوئے۔ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس اسکینڈل کیس میں ان کے اقامہ کے انکشاف کے بعد انہیں آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت 28 جولائی کو نااہل قرار دیا۔نواز شریف کے بعد قومی اسمبلی نے شاہد خاقان عباسی کو 28 ویں  وزیر اعظم  کے طور پر یکم اگست 2017 کو منتخب کیا جو 31 مئی کو حکومت کی مدت مکمل ہونے تک عہدے پر موجود رہے جس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کو ملک کا 29 واں نگراں  وزیر اعظم  مقرر کیا گیا ہے۔
 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔