سب سے پہلے احتساب، کسی قسم کا این آر او نہیں ملے گا: عمران خان



اسلام آباد ( 24نیوز ) اپاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ہم وہ تبدیلی لے کر آئیں گے جس کو قوم سالوں سے ترس رہی تھی۔ اہم سب سے پہلے کڑا احتساب کریں گے۔ سب کو ایک ایک کر کے قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کسی قسم کا این آر او کسی ڈاکو کو نہیں ملے گا۔مجھے کسی ملٹری ڈکٹیٹر نے پالا نہیں تھا۔ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر یہاں تک پہنچا ہوں۔ جن لوگوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ، اور باہر لے کر گئے میں ان کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کروں گا۔ نہ میرا باپ سیاست دان تھا اور نہ سیاسی بیک گراؤنڈ تھا۔ میں نے بائیس سال سٹرگل کی مجھ سے زیادہ ایک ہی شخص نے کی۔

اس شخص کا نام قائد اعظم ہے جو میرے ہیرو ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہر مہینے میں دو دفعہ پرائم منسٹر کے طور پر پارلیمان میں کھڑا ہو کر سوالوں کا جواب دوں گا۔ جن لوگوں نے ملک کو 28ہزار ارب کا مقروض کیا، کیسے ان لوگوں نے ہمارے بچوں کو مقروض کیا، وہ پیسہ ملک میں صحت کے لیے لگنا تھا، جو تعلیم پر خرچ ہونا تھا وہ پیسہ کدھر گیا اور واپس کیسے لانا ہے، اسی ایوان میں بیٹھ کر اس کے حوالے سے ڈسکشن کریں گے۔

میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ میں اپنے نوجوانوں کا مستقبل کیسے محفوظ کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے حوالے سے بات کرتا ہوں۔ یہ میرے دوست جو ایوان میں شور مچا رہے ہیں، ان سے چار حلقے کھولنے کو کہا، اگر کھلوا دیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ ان چاروں حلقوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حکومت میں تھے اگر تب احتساب کر لیتے تو آج یہ نہ ہوتا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے 126 دنوں کا دھرنا دیا۔ ذمہ داران کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ جب میں دھاندلی کی بات کر رہا تھا تو کہا جا رہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ تھا۔

میں کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لے کر آیا تھا۔ ہم ایسی حکومت بنائیں گے جو نیوٹرل ایپمائر کے فیصلہ پر چلے گی۔ جس کے فیصلہ پر دونوں ٹیموں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ہم نے صرف چار حلقے مانگے تھے۔ جن کو کھلوانے کے لیے اڑھائی سال لگے تھے۔ یہ جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ کون سے حلقہ میں کیا ہوا ہے۔ 43 حلقوں میں ہم بہت ہی کم مارجن والے ووٹوں سے ہارے ہیں اگر کوئی ہماری مدد کر رہا تھا تو وہاں سے ہم کیوں نہیں جیتے۔ آپ لوگ عدالت میں جائیں یا جہاں بھی، ہم ساتھ دیں گے۔

میں نہ بلیک میل ہوا ہوں نہ ہوں گا۔ اگر آپ نے دھرنا دینا ہے تو ہم کنٹینر دیں گے۔ لیکن شرط ہے کہ شہباز شریف اور فضل الرحمٰن ایک مہینہ دھرنا دے کر دکھائیں۔ ہم ہر طرح کی سپورٹ کریں گے۔

شازیہ بشیر

Content Writer