راولپنڈی میں لال حویلی کی داستاں

راولپنڈی میں لال حویلی کی داستاں


راولپنڈی ( 24نیوز )   لال حویلی سے 100 سال پرانی محبت کی پراسرار اور لازوال کہانی جڑی ہے۔ راج سہگل اور بدھاں بائی کی اس داستان نے سہگل حویلی کو جنوں والی حویلی بنا دیا.سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان مر کر بھی زندہ ہے۔

انمول پیار کی لازوال کہانی دو چار برس کی بات نہیں بلکہ ایک صدی کا قصہ ہے، جہلم کے ہندو امیر زادے راج سہگل ایک محفل میں بدھاں بھائی پر مر مٹے، پھر دھیرے دھیرے بدھاں کے گھنگروؤں کی کھن کھن راج سہگل کی دھڑکنوں کی آواز میں ڈھلتی چلی گئی۔ راج سہگل نے پہلےتو بدھاں بائی کو دل میں اورپھر گھر میں بسایا یوں راج نے بدھاں کیلئے راولپنڈی میں شاندار سہگل حویلی بنوائی اور اپنا پیار امر کر ڈالا۔ 1947ء میں برصغیرکی تقسیم سےمحبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی یہیں رہ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:چینی شخص کی گاڑی سے محبت کی مثال قائم 

آخر کار بدھاں بائی بھی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ گئیں۔ بدھاں کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو روحوں کی حویلی کہا جانے لگا۔وقت گزرا اور پھر اس حویلی کو نئی شناخت اس وقت ملی۔ جب 1985ء میں شیخ رشید نے سہگل حویلی کو خرید کر لال حویلی کا نام دے دیا۔ اب یہ حویلی محبت کی خوشبو کی بجائے سیاسی مرکز کے طور پرجانی جاتی ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito