’’چن کتھا ں گزاری ای رات وے‘‘

اظہر تھراج

’’چن کتھا ں گزاری ای رات وے‘‘


موقع کی مناسبت سے اگر کہہ دیا جائے کہ قومی ٹیم اس وقت دعائوں کے سہارے سانسیں لے رہی ہے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ گوروں کے دیس میں سبز ہلالی پرچم لہراتا، پاک سرزمین شاد باد کی گونج سننا ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔ میدان میں ملک کے صرف گیارہ کھلاڑی کھیلتے ہیں لیکن ان کی فتح کیلئے پوری قوم میدان کے باہر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔ یہ فتحیاب ہوتے ہیں تو کروڑوں چہروں پر خوشی بکھر جاتی ہے۔ جب یہ ہارتے ہیں تو کروڑوں دل ٹوٹتے ہیں، ارمانوں کا خون ہوتا ہے، کئی جذباتی تو قابو سے باہر ہوجاتے ہیں، مقابلہ کرکے ہارنا الگ بات لیکن بغیر لڑے ہارنا قوم نہ برداشت کرتی ہے اور نہ ہی وہ کرسکتی ہے۔

بھارت سے اہم میچ ہارنے پر پاکستانی کرکٹ شائقین طیش میں آگئے،کراچی میں شائقین کرکٹ نے مظاہرہ کیا ،مظاہرے کے دوران ٹی وی توڑ دیے، سوشل میڈیا پر قومی کرکٹ ٹیم پر خوب تبصرے کیے جارہے ہیں،ٹوئٹر پر ٹرینڈ چل رہا ہے کہ سرفراز کو گھر بھیجو۔ایک صارف نے میچ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ "بے شک بدترین شکست سےبارش بہتر ہے۔ایک نے پاکستانی ٹیم کی تصویر پر لکھا کہ"اے پتر وکٹاں تے نئیں ٹکدے" ایک اور صارف نے لکھا کہ 92کے ورلڈ کپ کی نشانیاں ختم۔۔شعیب ملک نے سینچری سورنز سے مس کردی۔سرفرازکچھ دیربعد قوم سے خطاب کریں گےسوشل میڈیا پرصارفین نے گرین شرٹس پر خوب تنقید کے نشتر چلائے،ایک صارف نے امام الحق کی کارگردی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پوسٹ کی کہ اوپنرپھربھی امام الحق سے بہتر ہے۔ایک نے فخرزمان کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تصویرشئیرکی جس میں بھارتی کھلاڑی گرِے ہوئے سکے کا پوچھ کر پاکستانی کھلاڑی کو آؤٹ کرواتا دکھائی دیتا ہےؕؕ۔ایک صارف نے لکھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت سے ابھی نندن کی طرح لڑی کاش کہ پاکستانی پائلٹ حسن کی طرح لڑتی ۔یہ معاملہ صرف شائقین کرکٹ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ بڑے بھی اس میں الجھتے نظر آئے۔

نائلہ عنایت نامی صحافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ لاہور میں بارش ہورہی ہے، بس اب مانچسٹر میں بھی بارش ہوجائے۔ نائلہ عنایت کے اس ٹویٹ پر کشمیری نژاد بھارتی صحافی آدیتیہ راج کول نے پاکستانیوں کے جذبات بھڑکاتے ہوئے جوابی ٹویٹ کی ’’یہ ہر پاکستانی کا خواب ہے کہ پاک بھارت میچ کے دوران بارش ہوجائے‘‘۔اس بے ہودہ مذاق کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے نائلہ عنایت نے اس ٹویٹ کے جواب میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ ہاتھوں کو دعا کے انداز میں اٹھائے ہوئے ہیں۔ نائلہ عنایت شاید یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ظاہر کرنا چاہ رہی تھیں ہر پاکستانی اس وقت بارش کی دعا کر رہا ہے تاکہ پاکستان بھارت کے ہاتھوں شکست سے بچ جائے۔آدیتیہ راج نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئےترجمان پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’’اللہ میاں ہماری طرف ہیں، غفور صاحب‘‘۔

ان ٹویٹس پر ترجمان پاک فوج نے آدیتیہ راج کول کی ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے انہیں خاموش کرادیا۔ ترجمان پاک فون نے لکھا کہ ’’ہمارا ایمان ہے کہ رب سب کا، ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اللہ سے دعا کرے، آپ کا بھی حق ہے کہ آپ دعا کریں لیکن دوسروں کے لیے انکار نہ کریں، آج کے میچ کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ صرف ایک کھیل ہے، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی، ہوسکتا ہے ہم جیت جائیں، ہوسکتا ہے ہم ہار جائیں، لیکن ہماری دعائیں ہماری ٹیم کے ساتھ ہیں۔‘‘

پاکستان اور بھارت میں جب بھی میچ ہوتا ہے تو غضب کا ہوتا ہے ،اس میچ کے دوران کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی ہاہا تو کبھی تھو تھو۔ ورلڈ کپ کے اس میچ میں بھی شائقین کرکٹ پر جذبات غالب رہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنون جیتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ جنون تو دونوں طرف تھا ،دعائیں تو دونوں طرف تھیں ،آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری مخالف سائیڈ پر ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ انسان تھا وہ بھی یقیناً اسی رب بندے ہیں جس کے پاکستانی ہے،یہ الگ بات ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں کا اپنے رب کا ماننے کا انداز الگ الگ ہے۔

جب میچ ہو رہا تھا تو ٹی وی مورچوں میں بیٹھے’’فوجی‘‘ اپنی توپوں سے نفرت اور خوشی کے ملے جلے گولے برسا رہے تھے۔ کل تک جن کا نشانہ مصباح الحق تھے آج سرفراز احمد ہیں،شائقین مطالبہ کررہے ہیں کہ سرفراز کو ہٹایا جائے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ ان کرکٹ پنڈتوں کو تنقید صرف کھیل پرکرنی چاہیے نہ کہ ہیروز کو زیرو بنانے پر۔ اُن کو یہ بھی خیال کرنا چاہیے کہ یہ وہی ٹیم ہے جس کو اپنے ملک میں 6 سال سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا نصیب نہیں ہوئی۔ 92ورلڈ کپ کے فاتح کپتان نے تو حد ہی کردی، ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو ریلو کٹا ہے کہہ دیا،اگر مشورہ دینا ہی تھا تو ٹوئیٹ کے بجائے ڈائریکٹ فون کیا جاتا اور کپتان کو کہا جاتا کہ جان لڑا دو ،پھر دیکھتے کیسے ہم میچ ہارتے، اس میں شک نہیں کہ 1992 میں ٹیم جیت کیلئے کھیلی تھی اب ہار سے بچنے کیلئے کھیل رہی ہے-

 

ایک بات تو کرکٹ پنڈتوں، ٹی وی مورچوں کے فوجیوں کی بھی ٹھیک ہے کہ سرفراز نے دھوکہ دے دیا ہے۔پی کے غلط ہوا اور جگو کی بات سچ ثابت ہوئی،ایسا نہ ہوتا تو سرفراز میدان میں جمائیاں نہ لیتا پایا جاتا،اب تو یہ خبر گردش کررہی ہے کہ شاہینوں کی رات جاگتے ہوئے گزری ہے ،یہ جگراتا میچ کی تیاری میں نہیں تھا کسی اور مقصد کیلئے تھا،’’چن کتھا ں گزاری ای رات وے‘‘ کا جواب بنتا ہے اس کا سب کو جواب دینا پڑے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer