وزیر اعظم پاک امریکہ تعلقات معمول پرلانے کیلئے کوشاں

وزیر اعظم پاک امریکہ تعلقات معمول پرلانے کیلئے کوشاں


واشنگٹن (24نیوز) وزیر اعظم شاہد خان عباسی اس وقت امریکہ میں ہیں اور وہ پاک امریکہ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں،انہوں نے واشنگٹن میں امریکی رکن کانگریس ٹیڈیو ہو سمیت اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں،مقامی ہوٹل میں وزیراعظم سے رکن کانگریس ٹیڈیو ہو کی ملا قات تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق ٹیڈیوہو امریکا کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی برائے ایشیا و پیسیفک کے چیئرمین ہیں،اس موقع پر کمیٹی کے رکن براڈ شرمین اور پاکستانی سفارتخانے کے عہدیدار بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کی انٹرپول کے ذریعہ گرفتاری کا حکم
یاد رہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب رواں برس یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹ کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات تناو کا شکار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سیاسی پارٹیوں میں خواتین کو کس بنیاد پر عہدے دیئے جاتے ہیں؟ ریحام خان نے بتا دیا
خیال رہے کہ بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور دیگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک معاونت معطل رہے گی۔
دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔