پاکستان کا بھارت کو انکار، دنیا میں مودی کا ”منہ کالا“ہوجائے گا

01:01 PM, 17 Mar, 2018

اظہر تھراج

اسلام آباد(24نیوز)تاریخ گواہ ہے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی بھی ٹھیک نہیں رہے ہیں،ہاں یہ ضرور ہے کہ کبھی جنگ کا محاذ گرم تو کبھی کبھی ٹھنڈا ضرور ہوا ہے۔

بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی معمول کی بات رہی ہے لیکن اب پاکستان کے سفارتی عملے ،ان کے بچوں کو ہراساں کرنے کی کہانیاں بھی منظر عام پر آنے لگی ہیں،بھارتی ایجنٹوں کی طرف سے اس اقدام پر پاکستان خاموش نہیں رہا،احتجاجاً اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلاکر حکمت عملی پر غور کررہا ہے۔

اہم خبر:احسن اقبال نے پرویز مشرف کو وارننگ دے دی

دراصل بھارتی بیماری کے پیچھے بھی ایک لمبی کہانی ہے، 1947 میں برطانیہ جب برصغیر کو چھوڑ کرگیا تو دو ملکوں پاکستان اور بھارت نے جنم لیا، کئی ریاستیں جو برطانوی کالونیاں تھیں وہ بھی آزاد ہوئیں اور ان کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا گیا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ شاطر انگریز اپنی کالونیوں کو تو آزادی دے گیا مگر کچھ ایسے تنازعات چھوڑ گیا جو بھارت سرکار کو چین نہیں لینے دیتے۔ بھارت نے کچھ علاقوں پر ناجائز قبضہ جمایا۔

پاکستان اور چین کے متعددعلاقے جن میں اسکائی چن، ٹرانس قراقرم، ارونا چل پردیش، جموں اینڈ کشمیر، سیاچن گلیشئر، سالتارو، سرکریک شامل ہیں پر بھارت نے زبردستی قبضہ جما رکھا ہے۔ اِس کے علاوہ بھارت کے متعدد علاقوں کے حوالے سے مالدیپ، سری لنکا، برما، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تنازعات چل رہے ہیں، جن میں کالا پانی، نیپالی پٹی، سستا، منی کوئے، کچا چٹھایو، جنوبی تل پتی جزیرہ، بنگالی انکلیو اور دیگر شامل ہیں۔

ان متنازع علاقوں کی وجہ سے بھارت کی پاکستان ، چین اور سری لنکا کے ساتھ جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ بھارتی فوج نے کئی مرتبہ سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں، یہی نہیں بلکہ بھارت ہمسایہ ممالک میں پراکسی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا میں بغاوت اور دہشگردی کے پیچھے بھی بھارتی جاسوس ایجنسی را کا ہاتھ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ حکومت کو ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دے دیا

پاکستان کے ساتھ بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ تنازعہ کشمیر ہے، ڈوگرا راج کے بعد یہاں بھارتی فوج قابض ہوئی، کچھ علاقہ تو پاکستانی فوج اور مجاہدین نے 1948 میں آزاد کروالیا مگر اب بھی ایک بڑا حصہ آزاد نہیں کروایا جاسکا۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے یہاں کے باسیوں کو آزادی دینے کی حامی تو بھری لیکن آج تک ان کو آزادی نہیں دی اور نہ ہی یہاں رائے شماری کرائی ہے بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔


یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں، جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے، پاکستان اور چین کے مابین جب سے معاشی اور اسٹریٹجک قربتیں بڑھی ہیں، بھارتی حکومت کے پالیسی میکرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی، بلکہ یہ کہیں کہ بدہضمی ہوگئی ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقہ کو اپنا حصہ ظاہر کرکے منصوبے کو شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دیا جائے۔ بھارت چور مچائے شور والی پالیسی پرعمل پیرا ہے کہ اتنا شور مچایا جائے کہ بھارت کے زیر قبضہ علاقوں اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں کی طرف دنیا کا دھیان ہی نہ جانے پائے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بھارت کو پاکستان کے ساتھ دشمنی مہنگی پڑ گئی
بھارتی حکومت نے پاکستان اور چین کے مابین عدم اعتماد کی فضاءقائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے بھی دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اقتصادی راہداری کے ذریعے افغانستان یا سینٹرل ایشیا کی ریاستوں تک پہنچے۔ یاد رہے کہ پاکستان سب سے بڑا ایونٹ پی ایس ایل عرب امارات سے بوریا بستر سمیٹ کر اپنے ملک کی طرف سفر کیلئے تیار ہے،لاہور کے قذافی سٹیدیم میں سیمی فائنلز اور کراچیکے  نیشنل سٹیڈیم میں فائنل میچ کھیلا جائے گا،بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کو اس کا بھی درد ہے جسے مختلف حوالوں سے ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

بھارتی غیر سنجیدہ حرکتوں سے خطے میں امن کو خطرہ لاحق ہے،پاکستانی سفارتکاروں کو بھارت میں ہراساں کیے جانے کے معاملے کے بعد پاکستان نے نئی دلی میں ہونے والی ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا،پاکستانی وفد کو وزیر تجارت کی سربراہی میں بھارت جانا تھا جہاں نئی دلی میں منعقد ہونے والی ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں شرکت کرنی تھی لیکن بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں اور ہائی کمیشن عملے کے اہل خانہ کو گزشتہ کئی روز سے ہراساں کیا جارہا ہے جس کے بعد پاکستان نے نئی دلی میں ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق تجارتی وفد کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ بھارتی رویے کے باعث کیا گیا ہے کیوں کہ پاکستان اپنی خودداری کو مقدم رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے نئی دلی میں پاکستانی سفارتی اہل کاروں اور ان کے اہل خانہ کوہراساں کیا جارہا ہے جب کہ پاکستان کے احتجاج کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ کی طرف کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ پاکستان اگر ایسا کرتا ہے تودنیا میں بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ پالیسی سازوں کا ”منہ کالا“ہوجائے گا-

مزیدخبریں