ن لیگ کو عدلیہ ، فوج اور اداروں سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے: چودھری نثار


ٹیکسلا(24نیوز) چودھری نثار نے کہا کہ ن لیگ کو عدلیہ ، فوج اور اداروں سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے۔

ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ مجھے یہ بتایا جائے کہ مسلم لیگ ن کا بیانہ کیا ہے؟ میں یہ کہتا ہوں کہ ہمیں عدلیہ سے نہیں لڑنا چاہیے ۔ ہمیں پاکستانی افواج سے لڑائی نہیں لڑنی چاہیے، اگر نااہلی سے متعلق کوئی ریلیف ملے گا تو اسی سپریم کورٹ سے ملے گا، ہمیں اداروں سے لڑائی نہیں لڑنی  اور اسی میں نوازشریف، ن لیگ اور سیاسی عمل کی بھلائی ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ انتخابی حلقہ میں جو لوگ میرے متبادل تلاش کیے جارہے ہیں ان کی الیکشن  میں ضمانت ضبط ہوگی، انھوں نے کہا اپنے انتخابی حلقہ میں مسلم لیگ ن کی ایک ایک اینٹ میں نے رکھی ہے، مجھ سے پہلے تو اس حلقہ سے مسلم لیگ کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوتی تھیں۔

یہ بھی پرھیں:عمران خان کان پکڑیں، توبہ کریں، کسی درگاہ پر بیٹھ کر اللہ اللہ کریں

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ 1985 سے 2002 تک این اے 40 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو تا رہا ، 2002 میں میرے حلقے کو دو حلقوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ کامیاب نہ ہو سکوں لیکن 2008 میں دونوں حلقوں سے کامیاب ہوا اور اب نئی حلقہ بندیوں میں میرا سارا آبائی حلقہ دوبارہ شامل ہو گیاہے۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ ہرچیز پر تنقید نہیں ہونی چاہیے کیونکہ تنقید ملک کو لے بیٹھی ہے، مخالفین چاہتے تھے کہ میں کسی حلقہ سے کامیاب نہ ہوں، پاکستانی حکومت مجھ سے پہلے بڑی تعداد میں ویزاجاری کررہی تھی میں نے ملکی مفاد کے خاطر غیرملکیوں کے لیے ویزے کی شرائط کو سخت کیا، ویزے کے حوالے سے دوطرفہ پالیسی کا فیصلہ کیا کہ جن ممالک کو ہم ویزا دیں وہ ممالک جواب میں ہمارے شہریوں کو بھی اسی فیس پر ویزا دیں۔