نیوزی لینڈ میں دہشتگردی، دنیا کی سوچ

مناظرعلی

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی، دنیا کی سوچ


اگرکوئی انسان ہے اوراس کے سینے میں ایک دل دھڑک رہاہے توپھرنیوزی لینڈمیں اللہ تعالیٰ کے حضورسربسجودہونے والے پُرامن اورمعصوم مسلمانوں کوانتہائی بے دردی سے شہیدکرنے پرافسردہ ہے،اگراحساس نام کی رتی بھی کسی کے اندرہے توبھی دہشتگرد کی جانب سے بنائی گئی فوٹیج کودیکھ کرخود کورونے سے نہیں روک سکتا،دکھی خاندانوں کیساتھ میرے جذبات ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہوسکتے ہیں مگریہ معاملہ میری ذات یاصرف مسلمانوں کاہی نہیں، نزاکت کو سمجھنے والاہرانسان خواہ وہ کسی بھی مذہب سے ہے،دنیاکے کسی بھی کونے میں ہے اورکوئی بھی زبان بولتاہے،انتہائی افسردہ ہے۔

فیس بک پرحملہ آورکی طرف سے لائیودکھائی گئی فوٹیج کو دیکھ کربے ساختہ آنسونکل رہے ہیں اورساتھ ہی ساتھ امن کے عالمی ٹھیکیداروں کی بے حسی پربھی ماتم ہے جودہشتگردی کواسلام اورمسلمان کیساتھ جوڑتے ہیں،کیاوہ عقل کے اندھے ہیں؟؟اُن کے نزدیک اگرمسلمان دہشتگرد ہے؟اگرداڑھی والاانسان صرف جنگجوہے توپھرسوچیں کہ جب بریٹن ٹرینٹ کسی ویڈیوگیم کی طرح انسانوں کاقتل عام کررہاہے توکسی مسلمان نے اُس پرخود کش حملہ ہی کیوں نہیں کردیا؟؟؟ یہ الگ بات ہے کہ نیوزی لینڈ مسلمانوں کے غم میں شریک ہے مگرحیرت اس بات پربھی ہوتی ہے کہ جہاں پوری دنیامیں مسلمان دہشتگردی اورنفرت کانشانہ بن رہے ہیں،کیاکرائسٹ چرچ میں ہونے والے جمعہ کے اجتماع کی سکیورٹی ضروری نہ تھی؟ایک دہشتگرد بلاخوف وخطر اپنی گاڑی پراسلحہ لے کرشہرکی سڑکوں پرگھومتارہا؟کیاکسی نے اسے نہیں روکا؟مسجد کے سامنے لوگ گاڑیوں پرگزرہے ہیں اوروہ سکون سے مسجدمیں آکرپانچ سے دس منٹ تک خون کی ہولی کھیلتارہامگرکوئی ایساسسٹم فوری الرٹ نہیں ہوسکا؟

دنیاکانام نہاد"چوہدری"بھی حملے پرفوری کوئی ردعمل نہیں دیتا،کافی دیرتک اس ملک کی خاموشی بھی یہ اندازہ لگانے کیلئے کم نہیں کہ وہ مسلمانوں کیساتھ ہونے والے اس ظلم پراپناکیاموقف رکھتاہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیوزی لینڈ حملے کو دہشت گردانہ حملہ نہ کہنابھی انتہائی افسوسناک سوچ ہے اورکئی گھنٹوں بعدگول مول بیان کومنافقت سے زیادہ کچھ نام نہیں کہہ سکتے۔ٹرمپ اوراس جیسوں کی عجیب سوچ ہے کہ جب یورپی ممالک یا کسی اور جگہ حملہ ہوتا ہے اور اس میں مسلمان شامل ہوتے ہیں تو اسے دہشت گردانہ حملہ کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی دوسرے مذہب کا ہوتا ہے تو اسے مخبوط الحواس یا جنونی شخص کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے بارے میں اپنی مرضی کے خیالات اوراسلام کی تعلیمات کواپنے اندازمیں سمجھنے والے لوگ کاش دین اسلام کی اصل تعلیمات کوبھی سمجھ پاتے کہ دین اسلام کسی بھی شخص کاناحق خون بہانے کی قطعااجازت نہیں دیتا توپھردنیاکومسلمانوں سے کیاخطرہ ہے؟؟پھرہم اگریہ نتیجہ نکالیں توپھربھی ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھے گاکہ ازل سے ہی سچ اورجھوٹ کی آپس میں بن نہیں پائی اورعالم کفرکوعالم اسلام سےڈرہے اورانہیں یہ ڈرہے کہ بالآخرکہیں دنیابھرمیں اسلام کاجھنڈاہی نہیں لہرادیاجائے اوروہ ہمہ وقت انہیں سازشوں میں لگے رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کودباکررکھاجائے اوران کی نسلیں ختم کی جائیں،مگریہ ان کی بھول ہے،انسانی تاریخ اٹھاکردیکھ لیں،باطل ہمیشہ رسوا ہوتاآیا اورقدرت نے بلآخرانہیں ان کے انجام تک ضرورپہنچایا۔

اہل باطل کسی غلط فہمی میں نہ رہیں،سچ کی راہ پرچلنے والے قتل وغارت گری کے کسی طورپربھی حق میں نہیں،اگرایساہوتاتوپھرایک درندہ جب معصوم لوگوں کوگاجرمولی کی طرح کاٹ رہاتھاتوپھروہی موجود نعیم رشیدقاتل کوروکنے کی کوشش نہ کرتابلکہ اپنی جان بچاکربھاگ نکلتا،یہاں جذبہ ایمانی اوراحساس انسانیت ہے،پروفیسر نعیم رشید نے اپنے جواں سالہ بیٹے طلحہ نعیم کی بھی پرواہ کیے بغیرجام شہادت نوش کرلیا حالانکہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کی منصوبہ بندی کررہاتھا،خوشی کے خواب دیکھنے والاکوئی انسان جب موت کوگلے سے لگالے توسوچیں کہ کچھ توایسا ہے اس مذہب میں جوکسی دوسرے میں نہیں،یقینایہی جذبہ ایمانی ہے کہ جس سے دشمن خائف ہے۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔