سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بڑی چھوٹ دیدی

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بڑی چھوٹ دیدی


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں نوازشریف کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی، زمین کی منتقلی کا تمام ریکارڈ بھی طلب، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ محکمہ اوقاف کی سمری کے خلاف نواز شریف نے حکم کیسے دیا؟ کیا ایگزیکٹو ہائی کورٹ کے فیصلے کو اپنے فیصلے سے تبدیل کر سکتا ہے؟

33 سال پرانے کیس میں نوازشریف نے منور دگل کی بطور وکیل خدمات حاصل کرلی،1985ءمیں پاکپتن دربار کی زمین پر دیوان قطب کو دینے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے۔ محکمہ اوقاف کی سمری کے خلاف نواز شریف نے حکم کیسے دیا،وزیراعلیٰ کے پاس ایسا اختیار کہاں سے آگیا؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ محکمہ اوقاف کی زمین دیوان قطب الدین کو کیسے الاٹ کردی؟معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا تھا۔ نوازشریف نے بطور وزیراعلی عدالت سے اپیل واپس لیکر دیوان قطب کو زمین منتقل کی۔ دیوان قطب نے زمین ملتے ہی دو تین روز میں فروخت کر دی۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

دیوان قطب کے وکیل افتخار گیلانی نے گزشتہ سماعت پر ہونے والی بدنظمی پر معافی مانگی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ،میں آپکی معاونت کرتا رہا ہوں جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے،نوازشریف کے وکیل کی جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت استدعا قبول کرتے ہوئے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا مزید مہلت نہیں دی جاے گی۔ عدالت نے زمین منتقلی کا تمام ریکارڈ بھی طلب کر لیا ،کیس کی آئندہ سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer