جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنیوالا بینچ ٹوٹ گیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنیوالا بینچ ٹوٹ گیا


اسلام آباد(24 نیوز)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کیخلاف صدارتی ریفرنسز کا معاملہ، سپریم کورٹ میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سمیت دیگر فریقین کی درخواستوں پر سماعت کرنے والا سات رکنی لارجر بنچ ٹوٹ گیا،جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن نے سماعت سے معذرت کرلی ،جسٹس عمر عطابندیال نے نیا بنچ بنانے کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کیخلاف صدارتی ریفرنسز کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے. منیر اے ملک نے بنچ پر اعتراض اٹھایا, فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے منیر اے ملک نے کہا اس بنچ میں مستقبل کے دو چیف جسٹس موجود ہیں جن کے ذاتی مفاد ہوسکتے ہیں.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا عدالت کا کوئی جج متعصب نہیں ہوتا,تمام ججز کھلی عدالت میں بیٹھے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ججز پر اعتراض سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بھی مجروح ہو گا,یہ محض افواہوں کا دروازہ کھولنے کی بات ہے.سماعت میں وقفے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کچھ ججز بنچ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا درخواست میں اٹھائے گئے اعتراض پر بینچ سے علیحدہ نہیں ہو رہا میں نے پہلے سے بینچ سے علیحدگی کیلئے ذہن  بنا رکھا تھا,جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کرتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ  بدقسمتی سے ہمارے ساتھی جج کیجانب سے اٹھائے گئے اعتراضات بلا جواز اور نامناسب ہیں، میں نے بطور جج قانون پر عمل درامد کرنے کا حلف اٹھایا ہے اپنی منشاء کے مطابق بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں۔

جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کی معذرت کے بعد سات رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا.عدالت نے بنچ تحلیل کرتے ہوئے نئے بنچ کی تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا.جسٹس عمر عطا بندیال بولے کیس کی جلد سماعت کی استدعا کریں گے۔ممکن ہے اگلے ہفتے تک کیس سماعت کیلئے مقرر ہوجائے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer