آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی


اسلام آباد( 24نیوز ) آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح حکومتی اندازوں سے کم رہنے کا امکان ظاہر کر دیا،، رواں مالی سال ترقی کی شرح حکومتی اندازوں سے 0.2 فیصد کم اور اگلے سال توقع سے 1.5 فیصد کم ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح وہ نہیں رہے گی جو حکومت نے بتائی ہے ، آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کی شرح 5.6 فیصد تک رہنے کا کہہ دیا۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لئے کے لئے جو تصویر کھینچی ہے،وہ اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ عالمی معاشی ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ برس شرح نمو کو جھٹکا لگ سکتا ہے، شرح نمو رواں مالی سال سے بھی کم ہو گی اور چار اعشاریہ سات فیصد تک رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
آئی ایم ایف کی گزشتہ سال اکتوبر میں جو رپورٹ نکالی تھی اس میں آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی ترقی کی شرح 6 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھالیکن حکومتی پالیسیوں اور اس کے نتائج کے بعد آئی ایم ایف نے اپنی بات واپس لے لی اور اپنے پہلے اندازے میں ایک اعشاریہ تین فیصد کی کمی کر دی، آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ 4.8 فیصد،، مہنگائی کی شرح 5 فیصد اور بے روزگاری کی ۔
دوسری طرف وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کا ریکارڈ کچھ اور ہی بتا رہا ہے اس کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار یعنی شرح نمو 5.28 فیصد ہے جو کہ گزشتہ 9 برسوں کے دوران سب سے زیادہ ہے۔ مالی سال 07-2006 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سب سے زیادہ یعنی 6.8 فیصد تھی۔ موجود حکومت نے اپنے دور میں معاشی ترقی (شرح نمو) کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا تھا جو کہ حاصل نہیں کیا جا سکا، جبکہ 14-2013 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.62 فیصد تک تھی؛ لیکن موجودہ حکومت اس میں خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت نے فاٹا کے عوام کی سن لی،اہم بل پر دستخط کردیے
یاد رہے مالی سال 16-2015 میں مہنگائی کی رفتار 2.82 فیصد تک کم ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس میں اضافہ دیکھا گیا۔ جنوری 2018 میں مہنگائی کی شرح 4.4 فیصد تک تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ 13-2012 کے بعد سے حکومت مالی خسارے (حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق) میں بھی خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی۔ آغاز میں مالی خسارہ 8.2 فیصد تھا جو کہ گزشتہ مالی سال 5.8 فیصد رہا۔ لیکن آئی ایم ایف کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال حکومت کا بجٹ خسارہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ اس کا ہدف 4.1 فیصد رکھا گیا تھا۔
واضح رہے آئی ایم ایف نے بھی مالی خسارے کو کل ملکی پیدوار 6.3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ غیرملکی ززِمبادلہ کے ذخائر 14-2013 میں 15.8 ارب ڈالر تھے جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بڑھ کر 19.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔