قومی سلامتی کمیٹی اجلاس: آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا فیصلہ


اسلام آباد (24 نیوز) نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا قومی سلامتی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ، اجلاس میں کوئٹہ چرچ پر حملہ کی مذمت، پاکستان کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، ٹرمپ انتظامیہ کا یک طرفہ فیصلہ قابل قبول نہ کرنے پر بھی اتفاق۔

تفصیلات کے مطابق نینشل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیرداخلہ، مشیرقومی سلامتی ناصرجنجوعہ اورتینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت متعلقہ محکموں کے حکام اور وزراء نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری خارجہ نے حالیہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے فیصلوں اور امریکہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی فیصلہ کے بعد مسلم امہ سمیت بین الاقوامی برادری کے لیے صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے۔ مسلم امہ آزاد فلسطینی ریاست کی حامی ہے اور پاکستان امریکہ کی طرف سے یرو شلم کے حوالے سے کسی بھی یک طرفہ فیصلہ کو قبول نہیں کر سکتا۔ پاکستان امریکہ پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھے گا تاکہ مسئلہ کا شفاف حل نکالا جا سکے۔

اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال بالخصوص خلیجی ممالک اور ایران کے حوالے سے امور کا جائزہ بھی لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان مسلم امہ کی یکجہتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بریفنگ دی جس پر کمیٹی نے اطمیان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے مزید توجہ کی بھی ضرورت ہے۔ اجلاس میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور فنانشل ٹاسک فورس کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا جبکہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کے حوالہ سے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت اور جلد حتمی شکل دینے کا ٹاسک نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کو سونپ دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے کوئٹہ میں چرچ پر حالیہ دہشت گرد حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے امن اور برداشت کے اسلامی بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔